تھر کول منصوبہ پاکستان کا کامیاب ترین بائننگ ماڈل بن چکا ، مراد علی شاہ
کراچی (کامرس رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر کول منصوبے کی کامیابی مقامی آبادی، سرمایہ کاروں اور حکومت کے باہمی اشتراک، اعتماد اور مسلسل تعاون کا نتیجہ ہے، جبکہ پاکستان کے معدنی وسائل ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں، تھر کا کامیاب ماڈل ملک کے دیگر معدنی منصوبوں میں بھی اپنایا جانا چاہیے تاکہ گرینائٹ، ماربل، راک سالٹ، چونا پتھر اور دیگر معدنی ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کراچی میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے زیر اہتمام پاکستان کی پہلی مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کول منصوبہ پاکستان کا کامیاب ترین مائننگ ماڈل بن چکا ہے اور جو لوگ اس کی ترقی سے واقف نہیں، انہیں تھرپارکر جا کر وہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں کا خود مشاہدہ کرنا چاہیے،ہر بڑے منصوبے میں مشکلات آتی ہیں، مگر عزم، شراکت داری اور باہمی اعتماد سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ تھر کی کامیابی پاکستان میں معدنی شعبے کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کان کنی کے بڑے منصوبے مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تھر میں سندھ حکومت، وفاقی حکومت، نجی سرمایہ کاروں، چینی کمپنیوں اور مقامی کمیونٹی نے مل کر ایک ایسا کامیاب ماڈل قائم کیا ہے جسے پورے ملک میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اور تمام شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس کے مثبت نتائج سے پاکستان کے معدنی شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور دلچسپی بڑھے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، تاہم اس کے بیشتر ذخائر اب بھی غیر ترقی یافتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیز تھری توسیعی منصوبے کے تحت رواں سال ایک کروڑ 12 لاکھ ٹن کوئلہ پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کے توانائی کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر 1992ء میں دریافت ہوئے، تاہم 2009ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس منصوبے کو نئی سمت دی اور تھر کول اینڈ انرجی بورڈ قائم کیا گیا۔ گزشتہ 16 برسوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے منصوبہ مسلسل آگے بڑھا، 2015-16 میں پہلی بار تھر سے کوئلہ نکالا گیا، 2018 ء میں باقاعدہ کان کنی اور 2019ء میں بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کی صلاحیت بے پناہ ہے اور اب تک اس کا صرف آغاز ہوا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو طویل المدتی حکمت عملی کے تحت مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ مختصر المدتی مفادات کے بجائے پائیدار منصوبہ بندی ہی کان کنی کے شعبے کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ چیف ایگزیکٹیو سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی عامر اقبال نے کہا کہ کانفرنس میں جرمنی، برطانیہ، جاپان اور مشرقِ وسطیٰ سے ماہرین نے شرکت کی ہے۔ پاکستان میں اربوں ڈالر کے سونے اور تانبے کے وسیع غیر دریافت شدہ ذخائر موجود ہیں۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے 10 عالمی معدنی ماہرین نے اپنی آراء پیش کی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذخائر تو موجود ہیں، جدی مائننگ کے ذریعے انہیں نکالا جا سکتا ہے۔