پیٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے، نیشنل ہائی وے سمیت تمام بڑی شاہراہیں بند،کئی مقامات پر پولیس کا کارکنوں پر تشدد

لاہور( نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ (آج) کے تاریخی احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے اتوار کو سندھ ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے گورنر ہاؤسز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔ قرطبہ چوک پر بڑے عوامی دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پٹرولیم لیوی کے نام پر بھتہ کسی صورت قبول نہیں ، جمعہ کو پانچ سو دس مقامات پر احتجاج ریہرسل تھا، ایک دن کے وقفے کے بعد چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا آغاز ہوگا اور عوام اسی صورت میں واپس جائیں گے جب پٹرولیم لیوی ختم ہوگی، فارم 47 سے مسلط حکمران عوام کے کلیجوں پر مونگ دل رہے ہیں، قوم کے دھتکارے ہوئے لوگ مسلط ہوکر سسٹم کے فیل ہونے کی باتیں کررہے ہیں، مسلط ہونے کی روایت انگریز دور سے شروع ہوئی اور سات دہائیوں سے انگریزوں کے وفاداروں کی صورت میں چلی آرہی ہے، مسلسل کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام بدبودار اور فرسودہ ہے، اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا، نظام چلانے والے اپنی ناکامی کا اعتراف کریں۔ دھرنا سے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور اظہر بلال نے بھی خطاب کیا۔ ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی ، صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی ، اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم عبداللہ عباس ،جمعیت طلبہ عربیہ کے ناظم اور دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس وقت کراچی کے ساحلوں سے لے کر لاہور سمیت ملک بھر میں سیکڑوں مقامات پر عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور جماعت اسلامی کی دی گئی چار بجے کی کال پر تھرپارکر جیسے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ نماز جمعہ ہی سے قبل احتجاج کے لیے نکل آئے۔ بلوچستان میں حالات خراب ہونے کے باوجود 18 کے بجائے 21 مقامات پر احتجاج ہوا، جو عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔عوام کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والے پنجاب، سندھ ، کے پی اور بلوچستان کے سپوتوں کو سلام، جماعت اسلامی کے گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے جمعیت علماء اسلام ، پاکستان تحریک انصاف ، اے این پی ، لاہور بار اور دیگر کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی قسم کی تفریق پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پوری قوم کو ایک لڑی میں پرونے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ قبضہ مافیا، جاگیردارانہ سیاست اور استحصالی نظام کے خلاف متحد ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنہیں عوام نے انتخابات میں مسترد کر دیا، وہی آج سسٹم کی ناکامی کا رونا رو رہے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی دور میں قائم کیا گیا یہی فرسودہ نظام عوام کو کبھی ریلیف فراہم نہیں کر سکا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ نومبر مینار پاکستان کے جلسے میں بھی سوال اٹھایا تھا کہ حکمرانوں نے عوام کے لیے کیا کیا؟ بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کو اب تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت چلانے میں ناکامی کے بعد خود حکمران طبقہ سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کر رہا ہے، جبکہ سسٹم صرف انتظامی حد بندیوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو انگریز نے اپنے وفادار جاگیرداروں اور وڈیروں کے ذریعے اس خطے پر مسلط کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی نام نہاد اشرافیہ پارٹیاں بدل بدل کر دہائیوں سے عوام پر حکمرانی کرتی آ رہی ہے اور اس نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج پورا پاکستان نظم و ضبط کے ساتھ سڑکوں پر نکلا، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے کسی ایمبولینس یا مریض کا راستہ نہیں روکا، کیونکہ یہ احتجاج عوام کے حقوق کے لیے ہے، نہ کہ عوام کو تکلیف پہنچانے کے لیے۔انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مافیا عوام پر مسلط ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوا تو حکومت نے اس سے کہیں زیادہ قیمتیں بڑھا دیں اور اس کے ساتھ پٹرولیم لیوی بھی بڑھا دی، لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو معمولی کمی کر کے عوام کو ریلیف دینے سے گریز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل تقریباً 74 ڈالر فی بیرل ہے، مگر اس کے باوجود عوام کو تقریباً 333 روپے فی لیٹر پٹرول فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی قیمت کہیں کم ہونی چاہیے تھی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام سے ناجائز ٹیکس اور لیوی وصول کر رہے ہیں، ایف بی آر کی کرپشن اور ناکامی چھپانے کے لیے پٹرولیم لیوی کا سہارا لیا گیا۔ ان کے مطابق اب تک لیوی کی مد میں آٹھ ہزار ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں، مگر اس رقم میں سے ایک روپیہ بھی ریفائنریوں کی بہتری پر خرچ نہیں کیا گیا۔ حکومتوں نے پٹرولیم لیوی کو عوام سے پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے وزیراعظم شہباز شریف کو اب پیچھے ہٹنا ہوگا اور لیوی ختم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ غریب، مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور اور طالب علم پر مسلسل ظلم کیا جا رہا ہے، جبکہ اشرافیہ اپنی مراعات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدنے سے پہلے آئی ایم ایف سے اجازت لی؟ کیا چیٔرمین سینیٹ یا بیوروکریسی کی مہنگی گاڑیاں خریدنے کے لیے آئی ایم ایف سے پوچھا جاتا ہے؟ لیکن جب غریب کو ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو آئی ایم ایف کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ آج غریب آدمی کی تنخواہ سے زیادہ اس کا بجلی کا بل آتا ہے، اس کے بچے پھل تو دور سبزیاں تک نہیں کھا سکتے، جبکہ جاگیرداروں اور طاقتوروں کے بچوں کو کبھی ایسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم بھی طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک طرف اشرافیہ کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں اور دوسری طرف عام آدمی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی جدوجہد کر رہی ہے تاکہ حقیقی تبدیلی اور انقلاب کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے اور ایسی ریاست چاہتی ہے جہاں گولی اور گالی کی سیاست نہ ہو، بلکہ عدل و انصاف، علم، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست صرف بندوق رکھنے والے اداروں کا نام نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا نام ہے، اور یہ ملک اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس لیے اس پر نہ کسی جرنیل کی اجارہ داری ہو سکتی ہے اور نہ کسی جاگیردار کی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو نہ جعلی نشستیں چاہئیں اور نہ کسی طاقتور کی سرپرستی، بلکہ وہ 25 کروڑ عوام کی حقیقی ترجمان بن کر ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حلقہخواتین جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز 41 شہروں میں خواتین نے احتجاج کر کے تاریخ رقم کی اور آئندہ دھرنوں میں بھی خواتین بھرپور شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم 9 اگست کو بھرپور قوت کے ساتھ نکلے گی اور حکومت کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔

لاہور؍ کراچی؍ پشاور؍ اسلام آباد؍ راولپنڈی؍ کوئٹہ ( نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ لیوی کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں پرامن احتجاجی دھرنوں، ریلیوں اور مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، اہم شاہراہیں، موٹروے، انٹرچینجز اور ٹول پلازے بند کر دیے گئے ، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد و راولپنڈی سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں کم و بیش 510مقامات پر احتجاج ہوا، کئی مقامات پر کارکنوں پر پولیس تشدد ہوا اور گرفتاریاں کی گئیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں قرطبہ چوک مکمل طور پر بند کر دیا گیا جہاں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے احتجاجی دھرنے سے کلیدی خطاب کیا۔ اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور صدر انجمن تاجران کاشف چودھری نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا، اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔راولپنڈی میں امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم کی زیر قیادت مری روڈ، لیاقت باغ کے قریب بند کر کے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ راولپنڈی سید عارف شیرازی سمیت دیگر ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہوئی۔کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں شاہراہ فیصل پر احتجاجی ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا، نوجوانوں سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے شرکت کی۔ کراچی کے مختلف اضلاع سے قافلے شاہراہ فیصل پہنچے اور شہریوں نے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ عوام ظالمانہ نظام اور پٹرولیم لیوی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔اندرون سندھ میں حیدرآباد سے کشمور تک جماعت اسلامی کے تحت احتجاج کیا گیا۔ حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ، کشمور، گھوٹکی، اوباڑو، شہدادکوٹ، عمرکوٹ، سانگھڑ، مٹھی، بدین، جیکب آباد، سکرنڈ، مٹیاری اور ٹھٹھہ سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔قومی شاہراہ، انڈس ہائی وے، مہران ہائی وے، تھرکول روڈ، سندھ پنجاب و سندھ بلوچستان بارڈر اور دیگر اہم شاہراہوں پر احتجاج کے باعث ٹریفک معطل رہی اور صرف ایمبولینسز کو راستہ دیا گیا۔ ٹنڈو محمد خان میں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما اکرم بیگ کو گرفتار کیا گیا تاہم مذاکرات کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے گوادر موٹروے علی شاہ بائی پاس اور لاڑکانہ میں دھرنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ظالمانہ لیوی ٹیکس اور حکومتی اقدامات نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ کندھ کوٹ، گھوٹکی، حیدرآباد، بدین اور سکھر سمیت مختلف مقامات پر بھی دھرنے دیے گئے۔سکرنڈ میں نیشنل ہائی وے بلاک کر کے بینظیر فلائی اوور کے نیچے دھرنا دیا گیا، جبکہ ٹنڈو آدم اور ٹنڈو جان محمد میں بھی احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری رہے۔پشاور میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع کی قیادت میں پشاور موٹروے ٹول پلازہ بند کر دیا گیا۔ صوبے کے مختلف اضلاع سے جماعت اسلامی کے قافلے احتجاجی مقامات کی جانب پہنچے، جبکہ چارسدہ انٹرچینج اور صوابی انبار انٹرچینج سمیت مختلف مقامات پر بھی دھرنے دیے گئے۔خیبرپختونخوا کے متعدد مقامات پر موٹروے، انڈس ہائی وے، ہزارہ موٹروے، سوات موٹروے اور پاک افغان شاہراہ پر احتجاج کیا گیا اور ٹریفک معطل رہی۔ چارسدہ میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر احتجاجی دھرنا دیا گیا، جبکہ صوابی میں قیم جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی صابر حسین اعوان اور امیر ضلع صوابی مفتی مراد احمد نے قیادت کی۔پشاور موٹروے انٹرچینج پر امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع، امیر ضلع پشاور بحراللہ خان ایڈووکیٹ، سابق صوبائی وزراء کاشف اعظم خلیل اور حافظ حشمت خان، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی، ضلعی ترجمان طارق متین، ضلع مہمند کے امیر ملک سعید خان، نائب امراء سراج الدین قریشی اور حمداللہ جان، نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی صدر جمشید منیر خان اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ایبٹ آباد میں امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی کی قیادت میں دھرنا شروع ہوا اور شاہراہ ریشم بند کر دی گئی۔ دیر بالا میں امیر جماعت اسلامی دیر بالا صاحبزادہ فصیح اللہ کی قیادت میں احتجاجی دھرنا دیا گیا اور مین سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہی۔ مہمند میں پشاور تا مہمند باجوڑ روڈ میاں منڈی کے مقام پر بند کی گئی جہاں عوام، طلبہ اور سماجی کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔چترال میں بھی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی مسائل کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری رہا۔کوئٹہ میں میاں غونڈی کراچی روڈ مکمل طور پر بند کر کے دھرنا دیا گیا۔ خضدار میں مین روڈ بند رہی جبکہ لورالائی میں لورالائی تا ملتان روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ چمن، حب اور زیارت میں بھی مین روڈز بند کر کے احتجاج کیا گیا۔ملتان میں سیداں والا بائی پاس پر احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید ذیشان اختر اور صہیب عمار صدیقی نے کی، جبکہ شجاع آباد میں احتجاجی دھرنا دے کر تھانہ چوک بند کر دیا گیا۔ قصور میں بھائی پھیرو روڈ اور شیخوپورہ میں مریدکے جی ٹی روڈ مکمل بند کر دی گئی۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نائب امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب رانا عبدالوحید کی قیادت میں مین روڈ پر دھرنا شروع کیا گیا۔ فیصل آباد غربی میں بھی مین روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ ساہیوال میں جی ٹی روڈ پر دھرنے کا آغاز ہوا جس کی قیادت ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان شیخ عثمان فاروق کر رہے تھے۔بہاولنگر میں امیر جماعت اسلامی بہاولنگر ارسلان خان خاکوانی کی زیر قیادت احتجاجی ریلی نکالی گئی، جبکہ وزیرآباد میں پولیس کی جانب سے تشدد کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اوکاڑہ، جھنگ، نارووال، خانیوال، لیہ اور بہاولپور میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔ننکانہ میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب وسطی رانا تحفہ دستگیر احمد اور جڑانوالہ میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل باسم سعید چوہدری کی قیادت میں کارکنان دھرنے کے مقامات کی جانب رواں دواں رہے۔ ڈجکوٹ میں پی پی 107 کا قافلہ امیر ضلع یاسر اقبال کھارا ایڈووکیٹ کی قیادت میں احتجاجی مقام کی طرف روانہ ہوا۔مقررین نے کہا کہ حکومت عالمی حالات کو جواز بنا کر روزانہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے عام شہریوں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول حکمران اور بیوروکریسی اپنی مراعات اور شاہانہ طرز زندگی ختم کرنے کو تیار نہیں، جبکہ غریب عوام پر مسلسل ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ عوام کو مزید موجودہ حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے بھی جماعت اسلامی پوری طرح تیار ہے۔

 

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *