فوری بلدیاتی انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو عدالتی چارہ جوئی اور عوامی مزاحمت کریں گے‘لیاقت بلوچ
لاہور ( صباح نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے جماعت اسلام پنجاب کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی من مانی، بدنیتی اور مسلسل حیلے بہانوں کی وجہ سے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہری عرصہ دراز سے اپنے بنیادی آئینی حق یعنی بلدیاتی الیکشن سے محروم ہیں یہ دوہرا معیار ہے کہ ملک کے باقی صوبوں میں تو الیکشن ہوں لیکن پنجاب کے 12 کروڑ عوام اور اسلام آباد کے 25 لاکھ شہری اپنے اس بنیادی آئینی حق سے محروم رہیں۔ اب جبکہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی ادارے اپنی مدت پوری کررہے ہیں اور عوامی نمائندے مقامی مسائل حل کررہے ہیں، پنجاب اور اسلام آباد کے عوام کو منتخب عوامی قیادت سے مزید محروم رکھنا آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل ‘‘مساوات کے حق’’ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مسلسل تاخیری حربوں، ایک کے بعد ایک ترامیم، نیا ایکٹ اور بدنیتی پر مبنی طرزِ عمل کے ذریعے پنجاب حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران بلدیاتی نظام کو مذاق بناکر رکھ دیا ہے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلدیاتی انتجابات سے فرار اور اسلام آباد میں MCI کو غیرفعال کرکے تمام اجتیارات CDA اور غیرمنتخب بیوروکریسی کے حوالے کرنا افسوس ناک اور بدترین غیرجمہوری عمل ہے۔ انہوں نے اس آئینی اور جمہوری بحران کے ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت کو ٹھہراتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ دستور کے آرٹیکل 218(3) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتجابات کے انعقاد کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری کو پورا کرے۔ عوامی احتساب کے بغیر بیوروکریسی کے ذریعے چار ہزار ارب روپے سے زائد ترقیاتی فنڈز خرچ کرنے کے باوجود شہروں میں صفائی ستھرائی، نکاسء آب، ہارٹیکلچر اور لائٹنگ وغیرہ کا نظام تباہی سے دوچار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 90 دن کے اندر پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول جاری کرکے انتخاب کا انعقاد یقینی بنایا جائے، انتخابات سے فرار کے تاخیری حربوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیارات کے تحت حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند بنائے تاکہ جمہوریت کی بنیاد مستحکم ہو۔ لیاقت بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد اور پنجاب میں فوری بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان نہ کیا گیا تو جماعتِ اسلامی قانونی، آئینی اور عدالتی چارہ جوئی سمیت پْرامن عوامی مزاحمت کا آپشن بھی استعمال کرے گی۔