اربن فلڈنگ انسانی جانوں ، معیشت اور صنعت کے لیے سنگین خطرہ بن گئی
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بار بار آنے والے شہری سیلاب اب ایک سنگین معاشی ہنگامی صورتحال اختیار کر چکے ہیں، اس لیے انہیں معمول کا موسمی مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا۔ انہوں نے حالیہ مون سون کے دوران قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلابوں سے شہری زندگی معطل ہو جاتی ہے اور چھوٹے، بڑے شہروں میں تجارتی اور صنعتی پیداوار رک جاتی ہے، مارکیٹیں بند ہو جاتی ہیں، ٹرانسپورٹ اور بجلی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور بندرگاہوں اور مقامی منڈیوں تک سامان کی ترسیل معطل ہو جاتی ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ماضی کے واقعات اس خطرے کی معاشی شدت واضح کرتے ہیں۔ کراچی میں 2025 کے شہری سیلاب سے صرف دو دن میں کاروباری برادری کو اندازاً 14 سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ایک ہزار سے زیادہ دکانیں اور گودام متاثر ہوئے۔ جبکہ 2020 کے سیلاب میں صرف کراچی میں کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے 10 سے 12 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے ملکی سطح پر تباہ کن سیلاب اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ زرعی نقصان کس طرح صنعتی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سرکاری پوسٹ ڈیزاسٹر نیڈز اسیسمنٹ کے مطابق 1,739 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جبکہ زراعت، خوراک، مویشیوں اور ماہی گیری کے شعبوں کو تقریباً 800 ارب روپے کا براہ راست نقصان اور 1.986 کھرب روپے کے معاشی نقصانات ہوئے۔ فصلوں کا حصہ ان شعبوں کے مجموعی نقصانات میں 82 فیصد تھا، جس کی مالیت تقریباً 2.285 کھرب روپے بنتی ہے۔ تقریباً 44 لاکھ ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوئی، جبکہ آٹھ لاکھ کے قریب مویشی ہلاک ہوئے اور سیلاب سے کپاس، کھجور، گنا اور چاول کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ 2022 کے سیلابوں سے کپاس کی تباہی خصوصی طور پر تشویش ناک تھی کیونکہ ملکی کپاس ٹیکسٹائل انڈسٹری کی تقریباً نصف ضروریات پوری کرتی ہے، جبکہ ٹیکسٹائل کا صنعتی پیداوار میں تقریباً ایک چوتھائی اور اشیائی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیت میں داخل ہونے والا سیلابی پانی صرف کسان کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ جننگ فیکٹریاں بند کرتا ہے، اسپننگ ملوں کو کپاس سے محروم کرتا ہے، شوگر ملوں کی کرشنگ کم کرتا ہے، چاول کی برآمدات کو متاثر کرتا ہے اور پولٹری، ڈیری اور لائیوسٹاک کی تباہی کے ساتھ ساتھ ان کے چارے کی قیمت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ مقامی کپاس کی کمی سے درآمدات اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔ گنے کا نقصان چینی، ایتھنول، شیرہ اور بیگاس سے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو متاثر کرتا ہے۔ چاول کی فصل تباہ ہونے سے رائس ملز، برآمدکنندگان، پیکجنگ انڈسٹری اور ٹرانسپورٹرز نقصان اٹھاتے ہیں، جبکہ مکئی اور چارے کی کمی سے دودھ، گوشت، انڈوں اور پولٹری مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک شفاف مون سون اکنامک ڈیمیج ڈیش بورڈ قائم کرے، جس میں متاثرہ زرعی رقبے، فصلوں کے نقصانات، بند صنعتی یونٹس، تباہ شدہ گوداموں، پیداواری تعطل، برآمدی کھیپوں میں تاخیر، سڑکوں کی بندش اور بجلی کی معطلی کی تفصیلات شامل ہوں۔میاں زاہد حسین نے بڑے شہروں کے نکاسی آب کے نظام کے آزادانہ آڈٹ، نالوں کی ناقص صفائی، تجاوزات کے خاتمے، اضافی پمپنگ صلاحیت اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر تعمیرات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقوں، ایکسپورٹ زونز اور تھوک مارکیٹوں کے لیے سیلاب سے نمٹنے کے تسلسل کے منصوبے بنائے جائیں، جبکہ متاثرہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بینکوں کے ذریعے ہنگامی ورکنگ کیپٹل فراہم کیا جائے۔ فصل، مویشی اور کاروباری انشورنس کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ حفاظتی اقدامات میں نقائص، لاپرواہی اور تاخیر کا بوجھ بار بار عوام، ٹیکس دہندگان، صارفین، برآمدکنندگان اور چھوٹے کاروباروں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں، غذائی تحفظ، صنعتی خام مال، برآمدات اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے پاکستان کو بعد از آفت امدادی پروگراموں کے بجائے قدرتی آفات سے پہلے بچاؤ کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ معاشی اور معاشرتی تسلسل قائم رہے۔