نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی اصولی طور پر منظوری دے دی گئی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 61 واں اجلاس عدالت عظمیٰ میں ہوا جس میں اصولی طور پر نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کی منظوری دے دی گئی، نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک کو ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لا انڈیکس سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ فریم ورک کا مقصد پاکستان میں شواہد پر مبنی عدالتی اصلاحات کو فروغ دینا ہے جبکہ فریم ورک کے ذریعے انصاف تک رسائی، شفافیت اور پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ فریم ورک میں قابلِ پیمائش کارکردگی کے معیارات اور بین الاقوامی معیار شامل کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف اور سیکرٹری وزارتِ قانون و انصاف نے خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی جبکہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ ہائی کورٹس نیشنل جوڈیشل ریفارم فریم ورک اور انٹرنیشنل فریم ورک فار کورٹ ایکسیلینس کی ’’سیلف اسسمنٹ چیک لسٹ اختیار کرسکیں گی۔ ہائیکورٹس اصلاحاتی پیش رفت کا سہ ماہی جائزہ اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام قائم کریں گی۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے خصوصی سیل قائم کریں گے۔ فریم ورک پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت کا جائزہ 8 اکتوبر 2026 کے اجلاس میں لیا جائے گا۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ رول آف لاء اشاریوں کی نشاندہی اور توثیق کرے گا جبکہ رول آف لا اشاریے مرحلہ وار نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ میں شامل کیے جائیں گے۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن سیکرٹریٹ این آئی ٹی بی کے تعاون سے پیش رفت کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم تیار کرے گا۔ اجلاس میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مجوزہ کمیشن پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف نے مجوزہ کمیشن سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ این جے پی ایم سی کے مطابق جدت، شواہد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔