کینیڈا میں پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا گیا
ٹورنٹو: کینیڈا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات کے دوران ایک افسوسناک واقعے میں پاکستانی نژاد خاتون رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد کی گاڑی کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ کینیڈا کے شہر اسکاربورو میں پیش آیا جہاں شدت پسندوں نے ان کی رہائش گاہ کے باہر کھڑی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ رات کے ڈیڑھ بجے پیش آیا جب علاقے میں سناٹا ہوتا ہے، تاہم خوش قسمتی سے اس حملے میں سلمیٰ زاہد اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک پُرامن اور محفوظ علاقہ ہے، جہاں ایسی تخریبی کارروائی انتہائی تشویشناک ہے۔
واقعے کے فوری بعد رائل کینیڈین ماؤنٹیڈ پولیس نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر حکام نے اس حملے کو نفرت پر مبنی جرم قرار دیا ہے کیونکہ رکن پارلیمنٹ کی گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، تاہم ابھی تک ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
سلمیٰ زاہد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین اور خوفناک تجربہ ہے، تاہم اللہ کا شکر ہے کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کے محرکات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے فوٹیجز حاصل کر رہی ہیں تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے۔ تاحال کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے اور پولیس واقعے کے پسِ پردہ محرکات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
دریں اثنا کینیڈا کی مسلم کمیونٹی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کینیڈا کی رواداری اور بین الاقوامی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا رہے ہیں، لہذا حکومت کو مسلم برادری کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔