تعلیم و تربیت کا نچوڑ
تعلیم کے بنیادی مقاصد پر ہر دور میں بحث ہوتی رہی ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین تعلیم و تربیت کے بنیادی مقاصد سے متعلق مبسوط بحث کے ذریعے عام آدمی کی راہ نمائی کرتے رہے ہیں۔ تعلیم و تربیت کا عمومی مقصد اور مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے لیے بھی نافع ہو اور دوسروں کے لیے بھی۔ تعلیم انسان کو بُرائیوں سے بچنے کی توفیق عطا کرتی ہے۔ اگر کوئی مثبت انداز سے سوچتا ہو تو اپنے لیے کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرتا ہی ہے۔ آج کی دنیا میں تعلیم و تربیت کے بنیادی مقاصد کا تعین کرتے وقت اخلاقی اوصاف کو زیر ِبحث نہیں لایا جاتا۔ اب زیادہ سے زیادہ مالی منفعت کا حصول یقینی بنانے کو تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد اور حاصل سمجھا جاتا ہے۔ ایک دور تھا کہ والدین بچوں کو اسکول اِس لیے بھیجتے تھے کہ وہ ڈھنگ سے جینا سیکھیں۔
فی زمانہ ہر انسان کا ذہن الجھا ہوا ہے۔ ہر طرف سے معلومات اُمڈی چلی آتی ہیں اور انسان اُن میں گم ہوکر رہ جاتا ہے۔ قدم قدم پر معلومات ہیں، حقائق ہیں اور انسان اُن سے مستفید ہونے کے نام پر دراصل اُنہیں اپنی زندگی پر اثر انداز ہونے دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کا ایک بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اِس کے ذریعے ذہن یک سُو ہو، اِدھر اُدھر بھٹکتا نہ پھرے۔ ٹیکنالوجی نے ذہنوں کو الجھا دیا ہے۔ کسی بھی شعبے کے بارے میں طرح طرح کی معلومات بہت آسانی سے دستیاب ہیں۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ ’’مستفید‘‘ ہونا چاہتے ہیں وہ دراصل اپنے ذہن کا بیڑا غرق کر رہے ہوتے ہیں۔ ذہن کوئی کباڑ خانہ نہیں کہ اِس میں کچرا ڈالا جاتا رہے۔ فیڈ بیک کا مطلب یہ ہے کہ ذہن کو وہ ملے جو اُسے درکار ہو۔ یہ نہ سمجھا جائے کہ ذہن میں بیسیوں یا سیکڑوں الماریاں بنی ہوئی ہیں اور اُن میں فضول معلومات بھرنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ تعلیم کے نام پر انسان بہت کچھ پڑھتا ہے۔ سیکھنے کے عمل میں پڑھنے کی اہمیت غیرمعمولی ہے مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ بہت کچھ پڑھتا ہی رہے۔ غیر متعلق مواد پڑھنے سے ذہن محض ضایع ہوتا ہے، اُس پر بوجھ بڑھتا ہے۔ یاد رکھیے کہ مطالعے کے نام پر ذہن کو کباڑ خانہ نہیں بننے دینا۔ یہ معاملہ غیرمعمولی احتیاط کا متقاضی ہے۔ ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے اور سُنتے ہیں وہ ذہن پر کسی نہ کسی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر ہم مثبت چیزیں پڑھیں گے تو ذہن توانا ہوگا، اچھی طرح سوچے گا اور اِس کے نتیجے میں بہتری کی راہ ہموار ہوگی۔ سوشل میڈیا پر ایسا بہت سا مواد موجود ہے جو ہمارے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ہم خواہ مخواہ اِدھر اُدھر کی فضول باتوں سے اپنے ذہن کی الجھن بڑھاتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا سمعی و بصری مواد ہمارے لیے امتحان کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں احتیاط سے کام لیتے ہوئے صرف وہ پڑھنا اور سُننا ہے جو ہمارے کام کا ہو، ہم سے کوئی نہ کوئی تعلق رکھتا ہو۔
ہمیں زندگی بھر سیکھنا ہوتا ہے۔ ہر دور کے انسان کا یہی معاملہ رہا ہے اور اب تو یہ لازم ہوچکا ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ سیکھتا رہے کیونکہ روایتی قسم کی ملازمتیں داؤ پر لگ چکی ہیں۔ تعلیم و تربیت کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو فضول معاملات سے دور رکھے۔ دنیا بھر کی چیزیں ہمارے ذہن کا رُخ کرتی رہتی ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے انتہائی فضول قسم کی چیزیں بھی ہمارے ذہن میں داخل ہوتی رہتی ہیں۔ ہمیں اپنے ذہن کو بچانا ہے۔ ذہن کو بھٹکنے سے بچانے کی مشق ہم سے غیرمعمولی ’’قربانی‘‘ مانگتی ہے۔ ہمیں کچھ ترک کرنا پڑتا ہے اور کچھ اپنانا پڑتا ہے۔ اب قدم قدم پر اِس مرحلے سے گزرنا ہے۔ زمانہ کچھ ایسا بدلا ہے کہ کسی بھی انسان کے لیے ذہن کو یک سُو رکھنا اب مشن کا درجہ رکھتا ہے۔ ہر طرف سے آنے والی غیر متعلق، غیر پیداواری اور فضول معلومات سے ذہن کو بچانا ایک بنیادی فریضے یا وظیفے میں تبدیل ہوچکا ہے۔
کسی بھی شعبے میں مہارت یقینی بنانے کے لیے یک سُوئی بنیادی شرط ہے۔ اگر ذہن میں بہت کچھ بھرا ہوا ہو تو کام کی معلومات تک رسائی انسان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوتی ہے۔ کام باتیں ذہن میں اوپری سطح پر یعنی بالکل سامنے ہونی چاہئیں۔ اگر ہم فضول معاملات کو ذہن میں اُنڈیلتے رہیں تو کام کی باتیں دُھندلا جاتی ہیں۔ عمومی سطح پر ہمیں اپنے ذہن میں موجود بہت سی معلومات فوری درکار ہوتی ہیں۔ اگر ذہن کو کُھلا چھوڑ دیا جائے اور اُس میں بہت سے معاملات کو داخل ہونے دیا جائے تو ذہن الجھ کر رہ جاتا ہے کیونکہ کام کی باتیں بہت سی فضول باتوں میں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایسے میں ذہن کا دُھندلا پن ہمیں بہت کچھ دیکھنے، سمجھنے اور سوچنے سے دور لے جاتا ہے۔ ذہن کو دُھند سے بچانے کے لیے لازم ہے کہ اِس کا ماحول صاف رکھا جائے یعنی ہر معاملے پر متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اپنے ماحول میں رونما ہونے والے ہر واقعے کے بارے میں جاننا یا زیادہ جاننا آپ کے لیے لازم نہیں۔ اگر ملک کے کسی شہر میں کوئی حادثہ ہوا ہے اور ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں تو اِتنا جان لینا کافی ہے کہ واقعہ ہوا ہے۔ اُس کی تفصیل سے آپ کا کیا تعلق؟ اگر کسی ملک میں کوئی بس کھائی میں گرگئی ہے تو یہ آپ کا معاملہ ہے ہی نہیں اِس لیے اِس حادثے کی خبر کا آپ تک پہنچنا بھی لازم نہیں۔ ذہن کو یک سُوئی سے ہم کنار رکھنے کے لیے اِسے فضول باتوں سے بچائیے۔