حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے نئے صوبوں کا مطالبہ سیاسی ڈراما قرار دیدیا

کراچی (رپورٹ: واجد حسین انصاری) سندھ کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی ڈراما قرار دے دیا اور کہا ہے کہ نئے صوبوںیا انتظامی یونٹس کا قیام مسائل کا حل نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو با اختیار بنایا جائے یا تو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی مسائل موثر طور پر حل ہوسکیں ۔ کراچی کو مکمل اور بااختیار انتظامی یونٹ کا درجہ دیا جائے اور مقامی حکومتوں کو آئینی ، مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں اور نئے صوبوں کے قیام جیسے متنازع معاملات سے گریز کیا جائے۔سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے نئے صوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے مسائل کا حل نہیں بلکہ کراچی کے مسائل کا حل ایک با اختیار اور خودمختار شہری حکومت، منتخب بلدیاتی نمائندوں خو با اختیار بنایا جائے ، مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور عوامی مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے۔ محمد فاروق نے کہا کہ نا اہل حکمرانوں سے چار صوبے نہیں سنبھالے جارہے تو یہ ایک درجن صوبے کیسے سنبھالیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق آئین میں طریقہ کار واضح کیا گیا ہے جس کے مطابق جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرار داد منظور نہیں کرتی تب تک نیا صوبہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کسی نئے صوبے کی ضرورت نہیں، ملک کسی بھی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہوسکتا، جمہوریت کے تسلسل میں ہی تمام مسائل کا حل ہے۔پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے نئے صوبوں کے حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ فنکشنل لیگ سندھ کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والے حکمران عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے صوبوں کی متنازع بحث چھیڑ کر اپنی ناکام پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ سردار رحیم نے کہا کہ سندھ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اس کی وحدت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، سندھ کے عوام اپنی دھرتی کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے نئے صوبوں کی تجویز کو محض سیاسی ڈراما قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی اور انتظامی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کا شوشہ محض عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی عوامی یا سیاسی مینڈیٹ کے بغیر آئین میں درج طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اقدامات کا کوئی جواز نہیں ۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل کسی نئے سیاسی یا انتظامی تجربے میں نہیں بلکہ آئین کی اصل روح کے مطابق فوری آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں ہے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرسکیں اور عوامی مسائل موثر انداز میں حل ہوسکیں۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ پاکستانی بالخصوص سندھ اور کراچی کو درپیش مسائل کا حل نئے صوبوں کے قیام میں نہیں بلکہ ایک مضبوط، بااختیار اور جوابدہ انتظامی یونٹس کے قیام میں ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ کراچی کو مکمل اور بااختیار انتظامی یونٹ کا درجہ دیا جائے ، مقامی حکومتوں کو آئینی، مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں، پولیس، بلدیات، صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کو مقامی سطح پر موثر بنایا جائے اور نئے صوبوں کے قیام جیسے متنازع معاملات سے گریز کیا جائے۔صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے عوام سندھ میں نئے صوبے بنانے کے مخالف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں آج تک کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے صوبے بنانے کی کوئی بھی قرار داد پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں بیٹھ کر دوسرے صوبوں کو تقسیم کرنے والے اپنے صوبے پر توجہ مرکوز رکھیں یہی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *