اٹلی نے اسپین سے شینگن معاہدہ عارضی طو پرمعطل کردیا
روم (انٹرنیشنل ڈیسک) اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان تارکین وطن کے معاملے پر تنازع ہے۔ اٹلی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاہدے کی معطلی عارضی طور پر ہے۔ یہ معطلی ضروری ہو گئی تھی۔ کیونکہ ہمیں اپنے یورپی بارڈر کی جانب اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے کرنا پڑا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دیا ہے۔ اٹلی کی وزارت داخلہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق اٹلی نے اسپین کے ساتھ جڑے بحری اور فضائی داخلی راستوں کو بند کر دیا ہے۔ تاہم یہ احتیاطی تدبیر اسپین کے شہریوں یا دیگر یورپی ممالک کے شہریوں کی آمد و رفت کو متاثر نہیں کرے گی۔ وہ سب اٹلی آ سکیں گے۔ ترجمان کے مطابق فرانس کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی پیروی میں دونوں ملک اپنے سرحدی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے زیادہ فورس لگا ئیں گے۔ جیسا کہ پہلے ہی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ منگل کے روز اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسپین سے مطالبہ کیا تھا کہ اسپین اپنے شینگن معاہدے کے تحت آنے والے بعض علاقائی امور کو معطل کرے۔ میلونی نے اس سلسلے میں ہزاروں آنے والے تارکین وطن کی تصویریں دکھاتے ہوئے کہا یہ پریشان کن صورت حال ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ اٹلی نے اس عارضی معطلی کے اقدام کا اعلان کیا اور سرحد کے آر پار آزادانہ آمد و رفت کو روک دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقدام ناگزیر ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا امیگرنٹس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کو لازماً مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ تارکین وطن کے اس ناقابل کنٹرول بہاؤ کو یورپی ملکوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ اٹلی کی وزارت داخلہ نے کہا اسپین کے ساتھ سرحد پر لگائے گئے چیک کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسپین سے اٹلی پہنچنے والے غیر یورپی شہریوں کو روکا جا سکے۔ یہ اقدام ایک ماہ تک جاری رہے گا جس کا آغاز ہفتے کے روز سے کیا گیا ہے۔دوسری جانب اسپین کے زیرِ انتظام مراکشی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے والے ہزاروں تارکینِ وطن کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق جمعرات سے اب تک مراکش سے 50 ہزار سے زائد افراد سیوٹا میں داخل ہوئے جن میں سے 48 ہزار 300 افراد رضاکارانہ طور پر واپس جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ال ترخال سرحد کے ہسپانوی حصے سے اب تک 57 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرحد کی دوسری جانب مراکش میں بھی مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہسپانوی حکام کے مطابق بعض تارکینِ وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے ۔