حکومت ضد چھوڑے‘پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکسز کا خاتمہ کرے‘لیاقت بلوچ

لاہور(صباح نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت ضد چھوڑے، آئی ایم ایف کی غلامی ترک کرے، ملکی معیشت کی بحالی کو ترجیح دے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ناجائز لیوی، مارجنز اور ٹیکسز کا خاتمہ کرے،حکمران عوامی مسائل پر پرامن احتجاج کی بات سْنیں. حکومتی رہاستی تشدد اور عدم حکمت خود حکمرانوں کے لیے مہنگا سودا ہوگا،چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز کے باہر پرامن مظاہرے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زبردست احتجاج ہوگا۔لیاقت بلوچ نے میڈیا نمائندگان اور اسلام،آباد، شمالی پنجاب جماعت اسلامی کے قائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، گیس، پیٹرول، ڈیزل پر حکومت کے ناجائز لیوی، ٹیکسز کے ناقابل برداشت بوجھ کے خلاف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی کال پر ملک بھر میں احتجاج، دھرنے اور سڑکیں بند ہوگئیں اور عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا، عوام کے لیے تیل، بجلی، گیس، یوٹیلیٹی بلز اور شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں ہوشربا اضافہ ناقابل برداشت ہے، زراعت، صنعت، تجارت، گھریلو صنعت اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے پیداواری لاگت میں اندھا دھند اضافہ جان لیوا بن گیا ہے، معیشت کا پہیہ جام ہورہا ہے، عوام کا خون نچوڑا جارہا ہے اور ملک کو دوست ممالک کے قرضوں کے سہارے عارضی وینٹی لیٹر پر زندہ اور عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھا جارہا ہے، یہ امر بالکل عیاں ہے کہ معرکہ حق کی عظیم کامیابی کے بعد بھارت اور پاکستان کی دشمن قوتیں پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے لیے ہر حربہ استعمال کررہے ہیں لیکن یہ المیہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حکومت، فوج اور مقتدر طبقہ اندرونی استحکام کے لیے کوئی پائیدار اقدام نہیں کررہے،اپنی ساکھ اور بے قدری کی وجہ سے حکومت حالات کے سامنے بے بس اور مفلوج ہے، حکومت اور اْس کے اتحادی مفاد پرستوں، جاہ پرستوں کا ٹولہ اور بلیک میلر مافیا ہے اور سیکورٹی فورسز طاقت اور زورآوری کی بنیاد پر ملک کو ملیامیٹ کرنے کے اصول پر کاربند ہے،جوکہ سراسر ایک غلط بیانیہ اور ناجائز طرزحکمرانی ہے۔16 اگست کو چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز کے باہرپرامن مظاہرہ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زبردست احتجاج ہوگا۔لیاقت بلوچ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اگلے مرحلے میں ان شاء اللہ ایران اور قطر بھی اس معاہدے کا حصہ ہوں گے، پاکستان، ایران اور افغانستان کا جنوبی ایشیا میں ایک پیج اور معاہدے پر اکٹھا ہونا ناگزیر ہے، افغانستان کی طالبان قیادت اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرے، دہشت گردی اور دہشت گردوں کے مائنڈ سیٹ انسان دشمن اور پاکستان و افغانستان کے حقیقی دشمن ہیں، بھارت کسی صورت افغانستان کا دوست نہیں ہوسکتا، اسلام اور مسلمان دشمنی بھارت کا اوّلین ہدف ہے، پاکستان اور افغانستان کی قیادت کشیدگی کے خاتمے، پاک افغان عوام کو ریلیف دینے کے لیے سفارتی محاذ پر ثالثوں کے ذریعے حالات کو نارمل بنائیں، وزیراعظم اور فیلڈمارشل آزادکشمیر میں جاری عوامی احتجاج کو اب مذاکرات کے ذریعے پْرامن اختتام کی طرف لے جائیں، یہی تحریک آزادی کشمیر کی ضرورت بھی ہے اور اِسی حکمت سے ناپسندیدہ بیانیہ دم توڑ دے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *