وندے ماترم کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی کے منافی ہے، اسدالدین اویسی
نئی دہلی (اے پی پی) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم )کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ سے قومی وقار کی توہین کے روک تھام (ترمیمی بل) 2026ء کی منظور ی کے بعد قومی گیت وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالف کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور میں دی گئی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے مذہب کے خلاف ہرگز کوئی عمل انجام نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور صرف اللہ کی عبادت کرتاہوں اور اگر میں کسی اور کی عبادت کروں تو یہ میرے مذہب کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے قومی ترانہ جن گن من اور قومی گیت وندے ماترم کے درمیان موجود واضح فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانہ ملک اور اسکے عوام کے احترام کا اظہار ہوتا ہے جبکہ وندے ماترم میں ایک دیوی کی عقیدت کے عناصر شامل ہیں، دونوں کی نوعیت مختلف ہیں اور انہیں ایک جیسا نہیں سمجھا جاسکتا۔