|

عراق سے مضبوط تعلقات چاہتے ہیں، فضائی حملے میں صرف مسلح ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا تھا: سعودی عرب

ریاض: سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ عراق کے ساتھ اس کے تعلقات برادرانہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ حالیہ فضائی کارروائیوں کا مقصد عراقی ریاست یا عوام نہیں بلکہ صرف مسلح ملیشیا گروہوں کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایک سعودی حکومتی عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت عراق کی خودمختاری، اس کی حکومت اور عوام کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہاں ہے، اس لیے حالیہ فضائی حملوں کو عراق مخالف کارروائی قرار دینا درست نہیں۔ یہ کارروائیاں صرف ان مسلح گروہوں کے خلاف کی گئیں جن کی سرگرمیاں سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ملیشیا گروپوں نے ماضی میں سعودی عرب کے اہم شہری مراکز، اقتصادی ڈھانچے اور پیٹرولیم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے باعث مملکت کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائی کرنا پڑی، فضائی حملے صرف عسکری نوعیت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں تک محدود رکھے گئے، جہاں سے سعودی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

سعودی عہدیدار کے مطابق یہ کارروائی فوری ردعمل نہیں تھی بلکہ کئی ماہ تک تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کے بعد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر ممکن کوشش کی کہ صورتحال مزید کشیدہ نہ ہو، تاہم مسلسل خطرات کے باعث کارروائی ناگزیر ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد ملیشیا نہ صرف عراق کے قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں سے عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ عراق کے تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں، یہ گروہ عراقی سرزمین اور وسائل کو پڑوسی ممالک کے خلاف جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، جو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

واضح رہے کہ 29 جولائی کو امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ افواج نے عراق میں مبینہ طور پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں 20 افراد ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور مختلف ممالک کی جانب سے اس پر ردعمل بھی سامنے آیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *