راہِ فرار اختیار کرنے والے
ترجمہ: عبدالغفار عزیزؒ
۔۔۔پھرقرآن کریم لوگوں کی دو اقسام واضح کرتا ہے: ایک گروہ تو ہے مجاہدین کا اور دوسرا ہے بیٹھ رہنے والے ناکارہ لوگوں کا۔ مجاہدین تو ہمیشہ میدانِ عمل اور پکار کی تلاش میں رہتے ہیں جیسے ہی تحریک و تحرک کا حکم ملا فوراً میدان میں آن نکلے‘ کیونکہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے اور اس کی راہ میں حقیقی جہاد کرتے ہیں۔ وہ روزِ آخرت پر یقین رکھتے اور اس روز کی کامیابی و جزا کے متمنی و متلاشی ہوتے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جان و مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کیا ان کا اللہ انہیں اس سے کہیں بہتر اور کہیں زیادہ عطا کر دے گا۔ وہ اپنے کارِجہاد کے ذریعے سے خود کو اللہ کے عذاب سے بچانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے خالق کی رضا اور اسی سے جزا کا حصول اور اس کی سزا سے نجات پانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہم تک پہنچاتے ہیں: ’’لوگوں میں سے بہترین زندگی اس کی ہے جو ہمیشہ اللہ کی راہ اپنے گھوڑے کی باگیں تھامے رہتا ہے‘‘۔ جب بھی جہاد کی ندا یا خوف کی کوئی صدا اس کے کانوں میں پڑتی ہے تو وہ اُڑتا ہوا پہنچ جاتا ہے۔ راہِ خدا میں موت اور شہادت کا متلاشی۔
رہ گئے سُستی کے مارے گھروں میں بیٹھے لوگ تو وہ کٹ حجتی اور بودے عذر گھڑگھڑ کے رخصت و اجازت لینے کے لیے بحثابحثی میں ہی پڑے رہتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت و دلیل ہوتی ہے کہ اللہ اور روزِ آخرت پر ان کا ایمان ابھی ادھورا ہے۔ ابھی شکوک و شبہات ان کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں‘ کیونکہ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کو جہاد پر اُبھارنے والی ایمان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور اس راہ سے پیچھے رکھنے میں شک سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ شکوک و تردد ہی کا شکار رہتے ہیں۔
ان کے تردد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں نکلنے کی کوئی تیاری نہیں کی ہوتی‘ کوئی زادِ راہ نہیں حاصل کیا ہوتا۔ وہ مسلسل اسی تردد کا شکار رہتے ہیں کہ راہِ خدا میں نکلنا ہے یا نہیں نکلنا۔ یہاں تک کہ خوف‘ بزدلی اور کمزوری ان پر غالب آجاتی ہے اور وہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان کے اس بیٹھے رہنے اور پیچھے رہ جانے میں بھی مجاہدین کے لیے خیر کثیر پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے بے ہمتوں کے ساتھ رہنے سے مجاہدین کی قوت کمزوری ہی واقع ہوتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر خصوصی انعام ہوا کہ اس نے ایسے عناصر سے جہاد کرنے اور غلبۂ دین کی خاطر نکل کھڑے ہونے کی توفیق سلب کرلی۔
ارشاد ہوتا ہے: اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمھارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے‘ وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے‘ یہ تمہارے ساتھ نکلتے تو بہادر اہلِ ایمان میں سازشیں‘ فتنے اور شکوک و شبہات ہی پھیلاتے۔ بات بے بات خود بھی اُکھڑ جاتے‘ دوسروں کو بھی اکھاڑ دیتے۔ تکلیف دہ تبصرے اور جملے بازیاں کرتے‘ تقسیم کرنے اور اتحاد و وحدت کو نقصان پہنچانے والی باتیں بناتے‘ حتیٰ کہ سب پر بزدلی طاری ہوجاتی‘ بزدلی میں وہ تنہا نہ رہتے۔ کیونکہ ہر جگہ ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو ان باتوں سے متاثر ہوتے ہیں‘ پھر وہ جھوٹی باتوں کو بھی سچ جاننے لگتے ہیں۔ افواہوں پر کان دھرتے ہیں‘ یہ افواہیں اور غلط بیانیاں ان پر نفسیاتی اثر ڈالتی ہیں‘ جس سے ان کے افعال و اعمال بھی یقینی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔
اس طرح کی صورت حال غزوئہ احد میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی نے ان اہلِ ایمان میں فتنہ پھیلا دیا جو دشمن کا سامنا کرنے کے لیے عملاً نکل کھڑے ہوئے تھے۔ وہ ان پر اپنا جادو پھونکنے لگا اور کانا پھوسیاں کرنے لگا: ’’ہم بھلا کیوں خواہ مخواہ نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ محمدؐ نے ہماری بات ماننے کے بجاے بچوں اور کم عمر و ناتجربہ کار لوگوں کی بات مان لی ہے۔ آخر اس مقابلے اور تحرک کا فائدہ ہمیں کیا ہوگا؟ دھیرے دھیرے اس کی ان باتوں کا اثر پھیلنے لگا‘ بنوسَلمہ اور خزرج کے بعض افراد نے تو واپس جانے کا ارادہ کرلیا تھا جس سے پورا مشن ناکام ہوتا‘ لیکن بالآخر اللہ نے انہیں ثبات سے نوازا اور ان کے بارے میں یہ وحی نازل ہوئی: ’’یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ ناکام ہونے پر آمادہ ہوگئے تھے حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا‘‘ (اٰل عمرٰن: 122)۔ اس کے باوجود وہ دشمنِ خدا خود اُلٹے پائوں واپس پھر گیا۔
اس طرح کے لوگ کسی بھی لشکر اور کسی بھی تحریک کے لیے ان کے سخت ترین دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ ہزیمت کے داعی اور دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ تحریکوں کو ایسے عناصر سے پاک کر دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے بخوبی آگاہ ہے۔ ایسے عناصر بہت خطرناک و نقصان دہ ہوتے ہیں لیکن دعوت کی راہ کھوٹی نہیں کرسکتے‘ نہ اللہ کی نصرت آنے سے ہی روک سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ اپنے ہی ساتھیوں کو ملنے والی کامیابیوں پر صدمہ محسوس کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ کامیاب و کامران ہوں‘ اس لیے کسی بھی فوج اور جماعت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایسے عناصر سے نجات حاصل کرلے۔ سیرت صحابہؓ میں مذکور ہے کہ جنگِ یمامہ میں حصولِ نصرت میں کچھ تاخیر ہوئی تو ایک صحابیؓ نے اپنے قائد خالد بن ولیدؓ کو پکار کر کہا: خالد! لوگ ہلاک ہو رہے ہیں‘ انصار اور مہاجرین کو دیگر افراد سے علیحدہ کر کے ان کے ذریعے ہلہ بولو۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے جائزہ لیا تو السابقون الاولون کی صفات رکھنے والے 3 ہزار ساتھی ملے۔ انہوں نے اسی تعداد پر بھروسا کیا اور فتح یاب ہوئے۔ ’’اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘ (یوسف:12)۔