امیر العظیم کی رحلت

امیر العظیم کی وفات کی خبر جونہی نظروں کے سامنے آئی۔ میں سکتے میں آ گیا۔ اگر چہ ان کی بیماری کے حوالے سے خبریں تسلسل کے ساتھ آرہی تھیں۔ پھر یہ خبر بھی پڑھی کہ وہ اب گھر آگئے ہیں۔ اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ پھر جماعت اسلامی کے کچھ رہنماؤں کے حوالے سے یہ خبر ملی کہ وہ امیر العظیم کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے ہیں۔ خبر میں ان کی صحت کی بہتری کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔ امیر العظیم ان افراد میں سر فہرست تھے، جو نمازوں اور تلاوت قرآن مجید کے بعد میری دعاؤں میں شامل تھے۔ میرا معمول ہے کہ جب بھی کسی بزرگ، دوست یا عزیز و رشتہ دار اور تحریکی ساتھیوں کی بیماری کا پتا چلتا ہے تو میں اپنی دعاؤں میں اللہ کریم سے تمام بیماروں کا نام لے کر ان کی جلد از جلد شفا یابی کے لیے ضرور دعا کرتا ہوں۔ اسی طرح فوت ہونے والے افراد کا بھی نام لے کر ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ راولپنڈی میں گزشتہ سال سابق امیر جماعت اسلامی راولپنڈی شہر اور ممتاز عالم دین مولانا عبدالجلیل نقشبندی کا انتقال ہوا۔ اس سال سابق امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی اور سابق ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ڈاکٹر محمد کمال بھی داغ مفارقت دے گئے۔ سابق امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد کی اچانک وفات جماعت اسلامی کے افراد کے لیے بہت بڑا صدمہ اور غم کا باعث تھی۔ گزشتہ دنوں راولپنڈی میں تنظیم ’’پیما‘‘ کے سابق سیکرٹری جنرل اور دکھی انسانیت کے مسیحا ڈاکٹر محمداعظم بھی طویل بیماری سے لڑتے لڑتے اپنے ربّ کے حضور پہنچ گئے۔ ہمارے قائد، محسن اور مربی امیر العظیم عرصہ سے ایک مہلک بیماری کا شکار تھے۔ مگر وہ اپنی ذمے داریاں بھی پوری طرح ادا کرتے رہے۔ کچھ دن اسپتال رہے اور پھر اپنے خالق اور مالک کی طرف سے بلاوا آنے پر چل دیے۔

امیر العظیم کا نام پہلے پہل اس وقت سنا، جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ پھر ایک دن (1984میں) روزنامہ جنگ کی سپر لیڈ آنکھوں کے سامنے آگئی۔ جس میں وقت کا ڈکٹیٹر نہایت ہی غضبناک ہو کر کہہ رہا تھا کہ ’’امیر العظیم ہو یا امیر الاعظم کسی کو نہیں چھوڑیں گے‘‘۔ اس خبر نے اپنے اور مخالفین سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ ہر جگہ امیر العظیم کے چرچے اور ان کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ان کا جرم صدر مملکت اور آرمی چیف کی طرف سے طلبہ یونین پر ناروا پابندی کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ امیر العظیم اور ان کے متعدد ساتھیوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔ ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔ کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔ تمام تر جبر و تشدد کے باوجود اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماؤں اور کارکنان نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خلاف امیرالعظیم اور ان کے ساتھیوں نے بے مثال جرأت اور استقامت کی تاریخ رقم کی ہے۔

1987ء میں جب قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے۔ اس وقت صفدر علی چودھری مرکزی ناظم نشرواشاعت تھے۔ وہ ایک درویش صفت رہنما تھے۔ سابق امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد کے دور امارت سے نشرو اشاعت کی ذمے داری ادا کر رہے تھے۔ ملک بھر کے چیدہ چیدہ صحافیوں سے ان کے رابطے رہتے تھے۔ قاضی حسین احمد نے جواں سال امیرالعظیم کی شخصیت میں چھپی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا تھا۔ انہوں نے امیر العظیم کو جماعت اسلامی پاکستان کا ناظم نشروشاعت مقرر کر دیا۔ ایک کارکن کی طرح انہوں نے اطاعت کی اور لبیک کہا۔ امیر العظیم نے اس نئی ذمے داری کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ صحافت کی دنیا میں ایک جواں سال، خوش شکل، خوش مزاج اور خوش گفتار ہنستا مسکراتا چہرہ آہستہ آہستہ جماعت اسلامی کی پہچان بن گیا۔ ایک ہلکا سا تبسم ہر وقت ان کے لبوں پر رقصاں رہتا تھا۔ وہ جس سے بھی ملتے اور بات کرتے تو وہ شخص ان سے دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتا تھا۔وہ ٹھیر ٹھیر کر بولتے تھے۔ جسے سننے والے آسانی سے سمجھ جاتے اور لکھنے والوں کو ان کے خیالات قلمبند کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔

راقم الحروف 1985ء میں جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے شعبہ نشرواشاعت میں آیا۔ تو اس وقت صفدر علی چودھری جماعت اسلامی کے مرکزی ناظم نشرواشاعت تھے۔ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور میں ہر سال مرکز کی سطح پر ضلعی اور بڑے شہروں کے ناظمین نشرو اشاعت کی تربیت گاہ ہوتی تھی۔ کبھی صوبہ پنجاب کے زیر اہتمام بھی اسی طرح کی تربیت گاہ منعقد کی جاتی تھی۔ صفدر علی چودھری کے بعد امیر العظیم نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا تھا۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں یہ سلسلہ تواتر اور باقاعدگی کے ساتھ چلتا رہا۔ ان تربیت گاہوں میں امیر العظیم، محمد انور نیازی اور دیگر نشرواشاعت کے شعبہ میں کام کرنے والے صوبائی اور مرکزی ذمے داران سے ملاقاتیں اور جان پہچان ہو گئی تھی۔ امیر جماعت اسلامی کے علاوہ صحافت کی دنیا کے سرکردہ لوگوں کے خیالات سننے اور ان سے سوالات کرنے کے مواقع بھی مل جاتے تھے۔ نشرواشاعت کے کام کے حوالے سے ان تربیت گاہوں سے بہت کچھ سمجھنے اور جاننے کو ملتا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر ان تربیت گاہوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔

امیر العظیم کی رحلت جماعت اسلامی کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ بڑا صدمہ اور غم ہے۔ بہر حال یہ قانون قدرت ہے۔ جو بھی ذی روح دنیا میں آیا ہے۔ اس کو ایک دن یہاں سے جانا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امیر العظیم کی مغفرت فرمائے۔ ان کی بشری کمزوریوں سے در گزر فرمائے۔ اپنی جنتوں میں ان کی مہمان نوازی کرے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *