تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی!
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے بارے میں حال ہی میں کئی بیانات دیے ہیں، انہوں نے کہا: ’’ہم آبنائے ہرمز کو اپنے انتظامات کے تحت اپنی مرضی سے چلائیں گے اور آخر کار ہم اس کا پورا نظم سنبھال لیں گے، ہم ’’محافظ فرشتے‘‘ کا کردار ادا کریں گے‘‘۔ اوّلاً انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’’ہم بیس فی صد ٹول ٹیکس بھی عائد کریں گے‘‘، شاعر نے کہا ہے:
تمہاری زُلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں تھی
یعنی ایران کا ٹول ٹیکس عائد کرنا ناقابل ِ قبول اور امریکا کو بیس فی صد کی شرح سے عائد کرنے کا استحقاق حاصل ہے، جبکہ ایران یہ استحقاق اپنے ساحلی پانیوں میں استعمال کر رہا ہے اور امریکا اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور یہ حق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخر ِ کار آبنائے ہرمز حسب ِ سابق آزاد بحری تجارتی گزر گاہ ہی رہے گی، کیونکہ اس کے ساتھ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے یا اگر ایران کوئی ٹول ٹیکس عائد بھی کرتا ہے تو وہ قلیل مقدار میں ہوسکتا ہے۔ امریکی دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران نے کہا: بیس فی صد بہت زائد ہے، ہم مناسب شرح سے ٹول ٹیکس عائد کریں گے۔ اس دوران امریکا ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکی حملوں کے ردِّعمل میں ایران بعض خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے کس قدر مؤثر ہیں اور آیا ان حملوں کے نتیجے میں امریکا یا خلیجی ممالک کا معتد بہ نقصان ہورہا ہے یا نہیں، اس کی بابت کوئی قطعی معلومات دستیاب نہیں ہیں، بس متضاد دعوے ہیں۔ اکثر حملوں کے بارے میں خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ اپنے دافع ِ میزائل نظام کے ذریعے وہ ایرانی حملوں کو بے اثر بنارہے ہیں۔ البتہ مغربی میڈیا سے معلوم ہوا ہے کہ کویت کی شعبیہ بندرگاہ میں ایک ’’امریکن ٹیکٹیکل آپریشن سینٹر‘‘ کو ایران نے نشانہ بنایا، اس میں امریکی ریزرو آرمی کے چھے فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں سے کئی کی شناخت ہوچکی ہے۔
الغرض امریکا ایران کا مسئلہ شدید الجھائو کا شکار ہے، چونکہ ایران نے قطر کے جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے، اس لیے قطر نے ثالثی سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی پوزیشن بھی نازک ہے، کیونکہ ایران کے خلیجی ممالک اور یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے سبب پاکستان کے لیے ایران کا ساتھ دینا مشکل ہوجائے گا۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کا کتنا نقصان ہورہا ہے، نیز اگر ان حملوں کے نتیجے میں ایران کا اقتصادی اور فوجی ڈھانچہ تباہ ہوتا رہا تو ایران ایسے نقصانات کب تک اور کس حد تک برداشت کرسکتا ہے۔ رابطہ کاری تو قدرے آسان ہے، لیکن ثالثی مشکل کام ہے، کیونکہ ثالث کو ہر فریق کے غلط کو غلط کہنا پڑتا ہے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے فریقین کو ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے لیے قائل کرنا پڑتا ہے۔ مگر حال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور پاسدارانِ انقلاب کی قیادت دونوں انتہا پسند واقع ہوئے ہیں اور دونوں کے بارے میں پیش گوئی کرنا یا دونوں کو کسی کم از کم قابل ِ قبول ایجنڈے پر متفق کرنا اور اس پر قائم رکھنا نہایت مشکل کام ہے۔ صدر ٹرمپ نے حسب ِ عادت بیس فی صد ٹول ٹیکس کا دعویٰ واپس لے لیا ہے، کہا جاتا ہے کہ برطانیہ اور خلیجی عرب ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے اور امر ِ واقع یہ ہے کہ ساری دنیا اس کی مخالفت کرے گی۔ تاہم انہوں نے کہا ہے: بیس فی صد ٹول ٹیکس سے دستبرداری کے عوض تیل پیدا کرنے والے ممالک اس کے مساوی رقم کی امریکا میں سرمایہ کاری کرکے نفع حاصل کریں گے۔ خلیجی ممالک تو پہلے ہی ٹرمپ کے سابق دورے کے موقع پر بھاری سرمایہ کاری کے وعدے کرچکے ہیں۔ مگر امریکا میں سرمایہ کاری کرنے یا فاضل مالی ذخائر جمع کرنے میں ہمیشہ خطرات مضمر رہتے ہیں، کیونکہ وہ جب چاہتا ہے کسی فرد، ادارے یا ملک کے اثاثوں کو منجمد کردیتا ہے اور دنیا میں کوئی اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ امریکا اور ایران نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے ختم ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن صدر ٹرمپ اپنے بیانات میں یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ اب بھی معاہدے کا امکان باقی ہے، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران نے ہم سے ایک بار پھر معاہدہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر حتمی معاہدہ نہ ہوسکا تو ایک ہفتے کے بعد ہم ایٹمی تنصیبات اور ایرانی اثاثوں یعنی بجلی، پانی، گیس، پٹرول اور پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات پر حملے کریں گے، نیز انہوں نے پلوں یعنی رَسل ورسائل کے ذرائع کو بھی تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ ایران کی صلاحیت ِ مزاحمت ومدافعت حقیقت میں کتنی ہے اور وہ ان ممکنہ نقصانات کو برداشت کرنے کی کتنی استعداد رکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ایران کا بنیادی اقتصادی ڈھانچہ برقرار رہے تاکہ کسی ممکنہ حتمی معاہدے کے بعدوہ اپنی بحالی اور تعمیر نو کا اہتمام کرسکے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے اپنے حالیہ بیانات میں خبردار کیا ہے کہ دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں کی کسی بھی جارحیت کا شدت سے جواب دیا جائے گا اور اگر امریکا یا اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا خطرہ مول لیا تو اس کا جواب انتہائی ہولناک ہو گا اور دشمن کو جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے: آبنائے ہرمز خطے میں دفاعی اور اسٹرٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جس کا تحفظ ایران کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ ایران نے سفارتی مذاکرات میں ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے، لیکن مخالف فریق نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، اس لیے ایران قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنی طاقت بنالیا ہے اور کسی بھی دوسری قوت کے مقابلے میں ساحل کے قریب ہونے کے سبب اُس کے لیے اس کا کنٹرول نسبتاً آسان ہے۔ ایران چاہتا تھا کہ عمان سے مل کر اس کے لیے کوئی طریقۂ کار وضع کرے اور درپردہ عمان کی آشیرباد بھی انہیں حاصل تھی۔ لیکن اب عمان نے ایران کے ساتھ مل کر اس کا طریقۂ کار وضع کرنے سے وقتی طور پر انکار کردیا ہے، کیونکہ عمّان کے لیے خلیجی ممالک اور امریکی دبائو کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
پاکستان کے لیے امریکا اور اسرائیل کے مقابل ایران کی حمایت آسان حکمت ِ عملی ہے اور پاکستان کے عوام کے لیے بھی قابل ِ قبول ہے، نیز پاکستان نے ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر فریقین کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے بے انتہا محنت کی ہے۔ اب فریقین کی انتہا پسندی اور غیر مصالحانہ رویے کے باعث اس کے تاروپود کا بکھرنا پاکستان کے لیے انتہائی اذیت کا باعث ہے، کیونکہ یہ ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ حتمی معاہدے کے لیے ایک بنیادی دستاویز ہے اور دوبارہ کسی ایسی دستاویز پر متفق ہونا مشکل ہوگا۔ نیز قطر کو بھی ثالثی میں دوبارہ شامل ہونے پر رضامند کرنا پڑے گا، کیونکہ سوئٹزرلینڈ کا مقام ’’برگن اسٹاک ریزورٹ‘‘، جہاں ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط ہونے کے بعد پہلا اجلاس ہوا تھا، وہ قطر کی ملکیت ہے اور قطر کے لیے دوبارہ اس کی میزبانی کرنا آسان ہوگا۔ اپنے عوام کی تسلی اور اُن کے جذبات کو بلند رکھنے کے لیے آتشیں بیان دینا شاید حکمت ِ عملی کا حصہ ہو، لیکن ایران کی قیادت کو چاہیے کہ سفارت کاری کے آداب کو بھی ملحوظ رکھے، اسلام کی تعلیمات یہ ہیں: ’’لوگو! دشمن سے ٹکرائو کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، مگر جب (قضائے الٰہی سے) ٹکرائو ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے‘‘۔ (بخاری)
امریکا میں بھی صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے اہداف اور ممکنہ نتائج کا جائزہ لیے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم کے ایماء پر ایران پر حملہ کردیا ہے، اس جنگ میں امریکا کا زرِ کثیر صَرف ہوا اور جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ پس ٹرمپ انتہائی ذہنی انتشار کا شکار ہیں اور شب وروز متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔