کشمیر کے فراموش والدین

تاریخ اکثر فاتحین، حکمرانوں اور اقتدار کے ایوانوں کی داستان بن کر رہ جاتی ہے۔ وہ جنگوں کے سن لکھتی ہے، معاہدوں کی دفعات درج کرتی ہے اور تخت و تاج کی تبدیلیوں کو اپنے صفحات میں محفوظ کرتی ہے۔ مگر تاریخ صرف سرکاری ریکارڈ یا سیاسی بیانیوں کا نام نہیں؛ اس کی ایک انسانی جہت بھی ہوتی ہے، جو لوگوں کی یادوں، تجربات اور اجتماعی حافظے میں زندہ رہتی ہے۔ ہر تنازع کے پس ِ پردہ اُن انسانوں کی ایک خاموش داستان بھی ہوتی ہے جنہوں نے نہ جنگیں شروع کیں، نہ سرحدیں کھینچیں اور نہ سیاسی فیصلے کیے، مگر اس کی سب سے بھاری قیمت اپنی زندگیوں، گھروں اور اپنے پیاروں کی جدائی کی صورت میں ادا کی۔

کشمیر کو اگر صرف ایک جغرافیائی تنازع، سیاسی مسئلے یا سفارتی کشمکش کے طور پر دیکھا جائے تو اس کی انسانی حقیقت کا بڑا حصہ نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ اس کی ایک تاریخ اُن ماؤں کی بھی ہے جو اپنے بچھڑے یا لاپتا بچوں کی خبر کی منتظر رہیں؛ اُن باپوں کی جن سے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا؛ اور اُن بزرگوں کی جنہیں اپنی اولاد کے بعد ان کے بچوں کی پرورش کی ذمے داری بھی اٹھانا پڑی۔ یہ ایسی تاریخ ہے جسے صرف اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسے اُن گھروں میں محسوس کرنا ہوگا جہاں ایک تکیہ برسوں سے خالی پڑا ہے، اُن کمروں میں جہاں کسی کے واپس آنے کی اُمید میں اس کی چیزیں آج بھی سنبھال کر رکھی گئی ہیں، اور اُن ماؤں کی آنکھوں میں جن کے لیے انتظار وقت گزرنے کا نام نہیں، زندگی کی ایک مستقل کیفیت بن چکا ہے۔ اس انسانی المیے کی جڑیں 1947ء کی تقسیم اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازع تک جاتی ہیں۔ جنگ بندی لائن اور بعد ازاں کنٹرول لائن نے زمین کو تقسیم کیا، مگر اس تقسیم کی ایک گہری لکیر خاندانوں کے درمیان بھی کھنچ گئی۔ بہت سے لوگوں نے سوچا ہوگا کہ یہ جدائی عارضی ہے اور حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، مگر بعض خاندانوں کے لیے چند دنوں کا فاصلہ دہائیوں میں بدل گیا۔ کچھ والدین اپنی اولاد کی شادیوں میں شریک نہ ہو سکے، کچھ اپنے پوتے پوتیوں کو گود میں نہ لے سکے، اور کچھ زندگی کی آخری سانس تک اپنے بچھڑے ہوئے بیٹے یا بیٹی کی واپسی کے منتظر رہے۔ خط، فون اور تصویریں فاصلے کم کر سکتی ہیں، مگر ماں کے لیے بیٹے کی موجودگی، باپ کے لیے بیٹی کی قربت اور خاندان کے لیے آخری دیدار کا کوئی مکمل متبادل نہیں۔

1947ء کے بعد کی جنگوں، مسلح کشمکش، 1990ء کے بعد کے مسلسل پرآشوب حالات اور کارگل جیسے واقعات پر مبنی سرکاری دستاویزات اور تاریخ کے مرتب کردہ اوراق تو موجود ہیں، مگر ان کے پہلو میں ایک ایسی غیر دستاویزی تاریخ بھی مسلسل لکھی جا رہی ہے جو سرکاری فائلوں کے ریکارڈ اور روایتی تاریخ سے ماورا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو گھروں کے اجڑنے، خاندانوں کے بچھڑنے اور اپنوں کی راہ تکتی ان آنکھوں میں محفوظ ہے جن کا انتظار کبھی تھمتا نہیں۔ ان واقعات کا اصل منظرنامہ سرکاری اعداد و شمار کی خشک عبارتوں میں نہیں، بلکہ ہر اس دل پر ثبت ہے جس سے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا یا جس کی دہلیز پر لخت ِ جگر لوٹ کر نہ آ سکا۔ یہ وہ خاموش داستانیں ہیں جو دستاویزات میں تو شاید نہ ملیں، مگر اس خطے کے ہر گھر کی ایک جیتی جاگتی اور دردناک حقیقت ہیں۔ جوان اولاد کی موت والدین کے لیے ناقابل ِ برداشت صدمہ ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اذیت ناک وہ کیفیت ہے جس میں موت کی تصدیق نہ ہو اور زندگی کی اُمید بھی باقی رہے۔ جبری گمشدگی خاندانوں کو اُمید اور مایوسی کے درمیان معلق رکھتی ہے۔ نہ مکمل سوگ ممکن ہوتا ہے، نہ اُمید ترک کی جا سکتی ہے۔ برسوں ایک ہی سوال زندہ رہتا ہے: وہ کہاں ہے؟ لاپتا افراد کے خاندانوں کی جدوجہد نے اس کرب کو مسلسل نمایاں کیا ہے۔ ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز (APDP) اور اس کی بانی پروینہ آہنگر اس درد کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہیں۔ ان خاندانوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ نہ اپنے پیاروں کی موت کا سوگ منا سکتے ہیں، نہ ان کی واپسی کی امید چھوڑ سکتے ہیں۔ سرینگر کے بابا پورہ کی مغلی بیگم کی داستان بھی اسی نامکمل انتظار کی علامت بن گئی۔ ان کا بیٹا نذیر احمد گھر سے نکلا اور پھر واپس نہ آیا۔ ایک ماں کا یہ انتظار محض ایک خاندان کی کہانی نہیں؛ یہ ان تمام والدین کی اجتماعی پکار ہے جن کے لیے ہر دستک امید بھی تھی اور ایک نیا زخم بھی۔

تنازع کا ایک اور گہرا زخم اُن بزرگوں کے حصے میں آیا جنہوں نے اپنی اولاد کھو کر ان کے بچوں کو سنبھالا۔ جوان بیٹے مارے گئے، لاپتا ہوئے یا دور ہو گئے تو ان کے بچے دادا دادی اور نانا نانی کے سہارے پلنے لگے، وہی بزرگ جو خود بڑھاپے میں سہارے کے محتاج تھے، ایک بار پھر والدین بننے پر مجبور ہو گئے۔ نہ آمدنی، نہ مالی تحفظ، نہ جسمانی طاقت، مگر محبت باقی تھی۔ جن ہاتھوں نے عمر بھر اپنے بچوں کے لیے روٹی کمائی تھی، وہی ہاتھ اب یتیم پوتوں اور نواسوں کو پالنے لگے۔ خود اندر سے ٹوٹتے رہے، مگر نئی نسل کو بکھرنے نہ دیا۔ یہ کشمیر کے المیے کی ایک خاموش تصویر ہے: جنہیں سہارے کی ضرورت

تھی، وہ خود سہارا بن گئے۔ لدرون کے خواجہ ثناء اللہ وانی کی زندگی بھی اسی خاموش قربانی کی ایک مثال تھی۔ پینتالیس برس قبل جوانی ہی میں رفیقۂ حیات سے محروم ہونے کے بعد انہوں نے دوسری شادی نہیں کی اور اپنی اولاد کی خاطر ماں بھی بنے اور باپ بھی۔ بچوں کی پرورش کے بعد اپنی زندگی خدمت ِ خلق کے لیے وقف کر دی اور اپنے حسن ِ سلوک کے باعث پورے علاقے کے لیے ایک شفیق بزرگ بن گئے۔ کشمیری روایت کے مطابق کوئی انہیں کاکہ کہتا، کوئی لالہ اور کوئی ٹاٹھ، مگر زندگی کا آخری دکھ شاید سب سے بڑا تھا۔ جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو پورا علاقہ ان کے جنازے میں شریک ہوا، لیکن ان کے بیٹے الطاف حسین وانی اور سجاد حسین سرحد کے اُس پار ہونے کے باعث اپنے باپ کے آخری سفر میں شریک نہ ہو سکے۔ میرے دوست محمد اشرف ڈار کی زندگی بھی اسی المیے کی ایک مثال ہے۔ وہ اور ان کے بھائی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی والدہ اور بہن اپنے بیٹوں اور بھائی سے ملنے پاکستان آئیں، مگر اسی دوران مقبوضہ کشمیر میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ایک ماں اپنے شوہر کا آخری دیدار نہ کر سکی، ایک بیٹی اپنے والد کے جنازے میں شریک نہ ہو سکی اور دو بیٹے اپنے باپ کے آخری سفر میں موجود نہ تھے۔ یہ ایسا غم ہے جس کا کوئی سیاسی نعرہ مداوا نہیں کر سکتا۔ زینگیر، سوپور کے مقصود منتظر بھی اسی خاموش المیے کے ایک امین ہیں۔ انہوں نے جلاوطنی کا کرب سہا اور حال ہی میں اپنے والد کی وفات کا صدمہ بھی برداشت کیا۔ دوسروں کے دکھ میں سایہ بن کر کھڑے ہونے والا یہ محبت بھرا انسان آج خود ایسے غم سے دوچار ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ ان کے والد اُن بے شمار کشمیری والدین میں سے تھے جو عمر بھر بچھڑی اولاد کی راہ تکتے اور اُن کی واپسی کی دعائیں مانگتے رہے، مگر آخرکار اپنی حسرتیں دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ہجرت انسان کو صرف وطن سے نہیں، رفتہ رفتہ اپنے پیاروں، یادوں اور اپنی جڑوں سے بھی دور کر دیتی ہے۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *