بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات: چند معروضی حقائق
گزشتہ سے پیوستہ
آچن لیک نے خود برطانوی وزیراعظم کو اس سلسلے میں جو خط بھیجا تھا، اس کے الفاظ کچھ یوں تھے:
I have no hesitation whatever in affirming that the present India cabinet are implacably determined to do all in their power to prevent this establishment of the Dominion of Pakistan on a firm basis. In this I am supported by all responsible British officers Cognizant of the situation
ان کا یہ خط پاکستان کو اسلحے اور فوجی سامان کے جائز حصے سے محروم کرنے کی بھارتی سازش کی طرف واضح اشارہ تھا۔
مزید براں،۴ ۱ اگست۱۹۷۴ء کو متحدہ حکومت ِ ہند کے پاس نقد رقم کا ذخیرہ ۴۰۰ کروڑ روپے تھا۔ بھارت کا رقبہ ۲۶۳،۸۷،۳۲ مربع کلومیٹر تھا، جبکہ متحدہ پاکستان کا رقبہ۳۷۳،۰۳۰ ۱ مربع کلومیٹر (مغربی پاکستان ۹۱۳،۸۱،۸ مربع کلومیٹر + مشرقی پاکستان ۸۶۰،۴۸،۱ مربع کلومیٹر) تھا۔ اس تناسب سے پاکستان کا بنتا حق ۳۰۶،۱۲۵ کروڑ روپے تھاتاہم پاکستان نے اس نقد رقم میں سے صرف ۱۰۰ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔
بھارت نے یہ رقم دینے سے بھی صاف انکار کر دیا، جس پر ایک ثالثی ٹربیونل قائم کیا گیا۔ دسمبر ۱۹۷۴ء میں دونوں ملکوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت پاکستان کا حصہ ۷۵ کروڑ روپے مقرر ہوا۔ اس سے قبل تقسیم کے وقت دونوں ممالک کے بینکنگ امور اور کرنسی اتھارٹی کی ذمے داری اکتوبر ۱۹۴۸ء تک ریزرو بینک آف انڈیا کے سپرد کی گئی تھی۔ بھارتی حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا کو باقاعدہ ہدایت جاری کی کہ پاکستان کے حصے کے ۷۵ کروڑ روپے اس کے اکاؤنٹ میں جمع نہ کیے جائیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کے حصے کا کل ۰۰۰،۶۵،۱ ٹن آرڈیننس سامان بنتا تھا، جس میں سے صرف ۷۰۳،۴ٹن سامان دیا گیا اور وہ بھی زیادہ تر بیکار، زنگ آلود اور نا قابل ِ استعمال تھا۔ تقسیم کے معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں ۱۵۰ شرمین ٹینک آئے تھے، لیکن اسے ایک بھی ٹینک نہیں دیا گیا۔ یہی دھاندلی ڈاک، تار، ٹیلیگرام، ٹیلیفون، ریلوے اور محکمہ تعمیراتِ عامہ کی تقسیم میں بھی دہرائی گئی۔
۱۹۷۱ء میں پاکستان سے مشرقی پاکستان کو الگ کر کے بنگلا دیش قائم کرنے کی جدوجہد میں بھارت نے بنگلا دیش کا ساتھ دیا۔ لیکن اس کی اس نام نہاد مدد کے پیچھے بھی اس کے اپنے مفادات کارفرما تھے۔ ان کا اصل مقصد اپنے دْشمن پاکستان کو توڑ کر کمزور کرنا اور اس خطے کی منڈیوں پر اپنا قبضہ و تسلط قائم کرنا تھا۔ ۱۹۷۱ء میں پاک فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بھارتی افواج نے جو لوٹ مار مچائی، تاریخ اس کی شاہد ہے۔ اس لوٹ مار کی ایک مختصر تفصیل درج ذیل ہے:
• ۱۔ عسکری سامان کی لوٹ مار: جنگ کے خاتمے پر بھارتی فوج پر ۲،۷۰۰ کروڑ روپے کا اسلحہ و بارود تقریباً ۲۰۰ ریلوے ویگنوں میں بھر کر لے جانے کا الزام عائد ہوا۔ (جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت تقریباً ۱۳ ارب ڈالر بنتی ہے۔ بحوالہ: روزنامہ امرت بازار، ۱۲ مئی ۱۹۷۴ء)
• ۲۔ غلے کی لوٹ مار: دھان، چاول اور گندم (۷۰ سے ۸۰ لاکھ ٹن، اوسطاً ۱۰۰ روپے فی ٹن کے حساب سے): ۱۶۰،۲ کروڑ روپے۔ (جس کی موجودہ قیمت تقریباً ۱۰ ارب ڈالر ہے۔)
• ۳۔ پٹ سن:۵۰ لاکھ گانٹھوں سے زائد پٹ سن: ۴۰۰ کروڑ روپے۔ (موجودہ قیمت تقریباً ۵،۱ ارب ڈالر۔)
• ۴۔ امدادی سامان کی اسمگلنگ:۵۰۰،۱ کروڑ روپے۔ (موجودہ قیمت تقریباً ۸ ارب ڈالر۔)
• ۵۔ دیگر اثاثے: جنگی ہتھیار، ادویات، مچھلی، مویشی اور جنگلاتی وسائل: ۱۰۰۰، کروڑ روپے۔ (موجودہ قیمت تقریباً ۶ ارب ڈالر۔)
o کل مالیت:۵۰۰۰ کروڑ روپے (جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت تقریباً ۴۰ ارب ڈالر بنتی ہے۔ بحوالہ: جنتا کا ترجمان، ۱ نومبر ۱۹۷۵ء)
• ۶۔ صنعتی ڈکیتی: بنگلا دیش کے صنعتی کارخانوں سے مشینری اور پرزے چوری کر کے اگرتلہ (بھارت) میں پٹ سن کی پانچ نئی ملیں قائم کی گئیں! (بحوالہ: اختر عالم، بدعنوانی کی۱۳۳۸ راتیں، صفحات ۱۱۵-۱۱۶)
• ۷۔ بارڈر ٹریڈ کا ڈراما: جنگ کے بعد سرحدی علاقے کے ۱۰ میل تک کے دائرے کو تجارت کے لیے کھول دیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ پورا علاقہ اسمگلنگ کا گڑھ بن گیا اور ملک کی قومی دولت سرحد پار منتقل کر دی گئی۔ (بحوالہ: ابو المنصور احمد، سیاست کے ۵۰ سال جو میں نے دیکھے، صفحہ ۴۹۸)
• ۸۔ جعلی کرنسی کا سیلاب: بھارت میں بنگلا دیشی کرنسی کے جعلی نوٹ چھاپ کر یہاں پھیلائے گئے۔ اس وقت کے وزیرِ خزانہ تاج الدین احمد یہ کہنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ’’جعلی نوٹوں نے ہماری معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے‘‘۔ (بحوالہ: عبدالرحیم آزاد، ا۷ کے قتلِ عام کا ہیرو کون؟، صفحہ ۵۲)
• ۹۔ معاشی استحصال: ہماری آنکھوں کے سامنے چاول اور پٹ سن سرحد پار بھیجے جاتے رہے، جبکہ بنگال کے بے بس و لاچار لوگ دنیا بھر میں کشکول لیے بھیگ مانگنے پر مجبور تھے۔ (بحوالہ: میجر (ریٹائرڈ) رفیق الاسلام بیر اتم، بدعنوانی کی ۱۳۳۸ راتیں، صفحات ۱۱۹-۱۲۶)
• ۱۰۔ غیر بنگالیوں کی جائداد پر قبضہ:۱۹۷۱ء میں غیر بنگالیوں (بہاریوں) کی چھوڑی ہوئی جائدادوں کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ (بحوالہ: ایم اے موہائمن، بنگلا دیش کی سیاست میں عوامی لیگ، صفحات ۱۴-۴۴)
• ۱۱۔ آبی اور معاشی سازشیں: فرقا بند کے نام پر بنگلا دیش کو بنجر اور ریگستان بنانے کی سازش، کرنسی کے تبادلے کے نام پر جعلی نوٹ پھیلانا اور بارڈر ٹریڈ کے نام پر بھارت کے سڑے ہوئے، گھٹیا مال کی منڈی بنانا۔ (بحوالہ: اختر عالم، بدعنوانی کی ۱۳۳۸ راتیں، صفحات ۱۱۵-۱۱۶)
• ۱۲۔ آرڈیننس فیکٹری کی لوٹ: جے دیو پور آرڈیننس فیکٹری سے اسلاح سازی کی کروڑوں روپے مالیت کی مشینری بھارت منتقل کی گئی۔ (بحوالہ: ولی احد، قومی سیاست ۱۹۴۵ء سے ۷۵ء تک، صفحات ۵۲۸-۵۳۱)
• ۱۳۔ بھارتی فوجیوں کی نجی لوٹ مار: ’’ڈھاکا میں اس قدر غیر ملکی سامان دستیاب تھا جو بھارتیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ریفریجریٹر، ٹی وی، ٹو ان ون، قالین اور ڈبہ بند خوراک۔یہ سب اشیاء بھارتی فوجیوں کے ٹرکوں میں بھری جانے لگی‘‘۔ (بحوالہ: سنیل گنگوپادھیائے، پوربو پچھم (شرق و غرب)، صفحہ ۹۲۳)
یہ تو لوٹ مار اور چپقلش کی محض چند چھوٹی مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس دور میں یہاں کے پٹ سن، کپڑے اور چینی کے ملوں کے بنیادی سرمایہ جاتی سامان، مشینری اور تیار شدہ مصنوعات کو جس بے دردی سے بھارت منتقل کیا گیا، اس کی تفصیلات روح فرسا ہیں۔
صرف یہی نہیں، بلکہ انہوں نے پاکستان کی ٹکسال کے ڈھالے ہوئے سکے،بالخصوص تانبے کے۲، ۱ اور ۵ پیسے کے سکے اور چاندی کے چونی، اٹھنی و ایک روپے کے سکے،بڑی تعداد میں بھارت منتقل کیے تاکہ انہیں فاؤنٹین پین کی نبیں اور زیورات بنانے میں استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت کے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (موجودہ بنگلا دیش بینک) کو لوٹ کر نقد رقم، زرمبادلہ کے ذخائر اور سونا بھارت منتقل کر دیا گیا۔ جب ان تمام زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی تو آزادی کی جنگ کے نامور سیکٹر کمانڈر میجر جلیل کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب بھی بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات پر بات ہو گی، تو ۱۹۷۱ء، ۱۹۷۱ء سے قبل اور ۱۹۷۱ء کے بعد اس خطے کے ساتھ بھارت کے جارحانہ رویے کا تجزیہ اور احاطہ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
(جاری ہے)