امریکا ایران: جنگ کا غبار

(2)
انیسویں صدی کے معروف پروشیائی، جرمن جنرل اور فوجی نظریہ دان ’’کارل وان کلائوزوٹز‘‘ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’On War‘‘ میں تحریر کیا ہے ’’جنگ میں تین چوتھائی چیزیں غبار کی مانند دھندلی ہوتی ہیں جن کے پار دیکھنا ممکن نہیں ہوتا‘‘ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ میدان جنگ میں کبھی بھی صورتحال سو فی صد واضح نہیں ہوتی۔ دشمن کی نقل وحرکت، موسم کی خرابی، غلط اطلاعات اور افراتفری کی وجہ سے کمانڈرز کو ہمیشہ ادھوری معلومات کے ساتھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ایک اچھا جرنیل وہی ہے جو اس دھند اور بے یقینی کے باوجود درست فیصلے کرے۔

جدید عسکری سائنس اور اکیسویں صدی کی جنگی اختراعات کا سب سے بڑا مقصد اس جنگی غبار کو چاک کرنا ہے۔ آج کی سپرپاورز کھربوں ڈالرز صرف اس لیے خرچ کررہی ہیں تاکہ میدان جنگ میں تذبذب کی دھند کو ختم کرکے سائبر نیٹک اور ڈیجیٹل شفافیت لائی جاسکے۔ آج جدید فوجیں ایک ایسے ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جڑی ہیں جس میں پینٹا گون میں بیٹھا جرنیل، فضا میں پرواز کرتا پائلٹ اور زمین پر موجود سپاہی ایک دوسرے کو لائیو سیٹلائٹ اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے غلط اطلاعات اور افراتفری کا غبار بڑی حدتک چھٹ جاتا ہے۔ جدید عسکری سسٹمز، میدان جنگ کی لاکھوں ادھوری معلومات، دشمن کے وائر لیس سگنلز اور موسم کی صورتحال کا سیکنڈوں میں تجزیہ کرکے کمانڈر کو بتاسکتے ہیں کہ دشمن کا اگلا ہدف کیا ہوسکتا ہے جدید ترین اسٹیلتھ ڈرونز (جیسے امریکا کا MQ-9) اور ’’تھرمل امے جنگ سیٹلائٹس‘‘ رات کے اندھیرے، بادلوں اور بدترین موسم کے پاربھی زمین پر رینگتے دشمن کو دیکھ سکتے ہیں۔

تاہم صاحبو! صرف عشق کے ہی نہیں جنگ کے روگ بھی ان گنت ہیں۔ ایک ٹھیک ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ جدید عسکری سائنس نے سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات کی کمی کا پرانا روگ تو کسی حدتک دور کردیا لیکن اس کی جگہ ایک نیا اور زیادہ خطرناک غبار بھی پیدا کردیا ہے۔ اب دشمن آپ کے ریڈار کو ہیک کرکے اس پر ایسی معلومات دکھا سکتا ہے جو حقیقت میں ہوتی ہی نہیں ہیں (الیکٹرونک اسپو فنگ)۔ کمانڈرز اب بھی حیران پریشان رہتے ہیں کہ اسکرین پر جو کچھ دکھ رہا ہے حقیقت ہے یا فریب؟

اردن، کو یت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر حال ہی میں ہونے والے کامیاب ایرانی حملے، جن میں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ایران کے ایک ایسے جدید میزائل نظام کا کارنامہ ہیں جو گرنے سے چند سیکنڈ پہلے 30 سے 40 کلو میٹر کی دوری پر اچانک اپنی سمت تبدیل کر لیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مشرق وسطیٰ میں امریکی دفاعی نظام: تھاڈ اور پیٹریاٹ کے لیے ایک نیا درد سر بن چکی ہے۔ امریکی پیٹریاٹ جیسے دفاعی نظام روایتی بلیسٹک میزائلوں کے پہلے سے طے شدہ راستے کا حساب لگا کر انہیں فضا میں رو کتے ہیں۔ لیکن جب ایران کا یہ میزائل آخری وقت پر اپنا ہدف بدلتا ہے تو امریکی ریڈارز اور انٹرسیپٹرز چکرا جاتے ہیں اور دفاعی حصار ٹوٹ جاتا ہے۔

اس تفہیم کے بعد اب آئیے جنگی غبار کی طرف۔ امریکا دنیا کی جدید ترین انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود ایران کے متعلق کئی محاذوں پر مکمل طور پر دھند کا شکار ہے۔ ایران نے اپنے سب سے اہم میزائل اثاثے، ڈرون فیکٹریاں اور کمانڈ سینٹرز زمین کے سیکڑوں فٹ نیچے پہاڑوں میں چھپا رکھے ہیں۔ سیٹلائٹس اوپر سے تو دیکھ سکتے ہیں لیکن ان زیر زمین بنکرز کی اصل گہرائی، اسلحے کی صحیح تعداد اور ان کی مار کرنے کی صلاحیت امریکی انٹیلی جنس کے لیے اب بھی ایک بڑا غبار ہیں۔

امریکا کے لیے یہ جاننا ناممکن ہے کہ یمن کے حوثی، عراقی ملیشیا، یا حزب اللہ کا کوئی سیل کب اور کس حد تک تہران کے براہ راست حکم کے بغیر اپنے طور پر کوئی بڑا حملہ کردے گا۔ ایران کے پروکسی نیٹ ورکس کا یہ خود مختارانہ مائنڈ سیٹ امریکی دفاعی منصوبہ بندی کو مسلسل دھند لا رکھتا ہے۔ ایران کی سائبر فوج دنیا کی خطرناک ترین فورسز میں سے ایک ہے۔ امریکا نہیں جانتا کہ ایران نے اس کے پاور گرڈز، واٹرسسٹمز یا بینکنگ سیکٹر کے بنیادی انفرا اسٹرکچر میں کون سے سائبر ڈیجیٹل بم پلانٹ کررکھے ہیں۔

ایران کا جہاں تک تعلق ہے اس کے لیے سب سے بڑا غبار اس کا اپنا اندرونی سیکورٹی نظام ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران کی سائنسی اور عسکری قیادت کو جس طرح نشانہ بنایا گیا ہے اس سے تہران کے لیے یہ دیکھنا ناممکن ہو چکا ہے کہ ان کے اپنے سیکورٹی اور سیاسی ڈھانچے میں اسرائیل اور امریکا کے کتنے ’’اندرونی مہرے‘‘ موجود ہیں جو خفیہ معلومات لیک کررہے ہیں۔ ایران پر یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکا کی اصل ریڈ لائن کیا ہے جس کے پار جانے پر وہ ایران پر فل اسکیل وار مسلط کردے گا۔ امریکا کے پاس ایسے الیکٹرونک کلوکنگ سسٹمز، اسٹیلتھ ڈرونز اور اے آئی ہتھیار ہیں جن کا ایران کے ریڈار اور دفاعی نظام (جیسے S300 یا باور 373) کو پہلے سے سراغ لگانا ناممکن ہے۔ ایران کو حملے کا علم تب ہوتا ہے جب دھماکا ہو چکا ہو۔

اس غبار کا سب سے خوف ناک نتیجہ غلط اندازہ ہوتا ہے۔ فریقین اس دھند کی وجہ سے ایک دوسرے کی نیت اور اگلے قدم کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔ مثال کے طور پر اگر ایران کا کوئی حامی گروپ بحیرۂ احمر یا خلیج میں کسی امریکی بحری جہاز پر ایسا حملہ کردے جس میں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی ہلاک ہو جائیں، چاہے ایران کا ارادہ صرف ڈرانے کا ہو، تو یہ چنگاری غیرارادی طور پر ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑا غبار یہ ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کردیتا ہے تو خام تیل کی قیمتیں راتوں رات آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ امریکا کے لیے یہ دیکھنا ناممکن ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی مہنگائی خود امریکی معیشت اور ڈالر کی ساکھ کو کتنا بڑا نقصان پہنچائے گی۔ امریکی ووٹرز کا جہاں تک تعلق ہے وہ اب مشرق وسطیٰ میں کسی نئی اور طویل جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ امریکی حکومت کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ جنگ کے مزید طول کھنچنے کی صورت میں ملک کے اندر کس سطح کا احتجاج شروع ہو گا اور موجودہ قیادت کے مستقبل پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یوکرین، تائیوان اور مشرق وسطیٰ میں بیک وقت اپنے اتحادیوں کو عسکری اور مالی امداد فراہم کرنے کی وجہ سے امریکی معیشت، دفاعی سپلائی لائنز اور خزانے پر شدید دبائو ہے۔ پینٹا گون کے لیے یہ غبار برقرار ہے کہ وہ کس حد تک اور کب تک ایران جنگ کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔

ایران ایک طویل عرصے سے سخت ترین بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کا اندرونی ڈھانچا کافی پیچیدہ ہوچکا ہے۔ ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ریال کی گرتی ہوئی قدر اور بے روزگاری کی وجہ سے اندرونی طور پر عوامی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اب تک یہ بے چینی قابو میں ہے لیکن کب، کس واقعے کے نتیجے میں یہ بے چینی شدید حکومت مخالف احتجاج اور بغاوت کی لہر میں بدل جائے یہ ایرانی حکام کے لیے ایک غبار ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں ایران میں جو ’’شیڈو اکانومی‘‘ تشکیل پا چکی ہے اس کی اصل طاقت اور لچک کا درست اندازہ لگانا مغربی ماہرین کے لیے بھی ایک معما ہے۔ جنگی حالات میں یہ معاشی لائف لائن کب زد میں آجائے، کب ساتھ چھوڑ دے یہ بھی ایران کے لیے دھند لکا ہے۔ امریکا اور ایران شطرنج کی ایک ایسی بساط پر بیٹھے ہیں جہاں دونوں کو ایک دوسرے کے مہروں کا تو علم ہے لیکن جیب میں رکھے پوشیدہ کارڈوں کا مطلق پتا نہیں۔ اس لیے دونوں ممالک مکمل جنگ یا فل اسکیل وار سے کتراتے ہیں۔ کل چین اور روس کے اس جنگ میں پوشیدہ سیاسی اور عسکری کردار پر بات ہوگی۔ ان شااللہ

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *