ظلم کی زندہ دستاویز
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جن کو صہیونی حکام نے دسمبر 2024 میں حراست میں لیا تھا ان کے بارے میں اسرائیل آج بتا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری قانونی ہے۔ یہ ساری دنیا اور اقوام متحدہ کے ساتھ بھی مذاق ہے لیکن اقوام متحدہ اب بھی محض نرم گرم مطالبات ہی کرتی رہے گی جن کو اسرائیل نے مان کر نہیں دینا ہے۔ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ لمحہ لمحہ دنیا کو اپنے مریضوں کو بچانے کے لیے رپورٹ کرتے رہے کہتے رہے ہم مر رہے ہیں دنیا کو بتا دو۔
ایک طویل عرصہ یعنی دو ماہ تک وہ کمال ادوان اسپتال میں محاصرے میں رہے چاروں طرف سے صہیونی افواج اسپتال پر گولہ باری کرتے رہتے تھے آخر صہیونیوں نے اسپتال میں آگ لگا دی گئی پھر بھی وہ باہر نہ آئے اپنے مریضوں کے ساتھ رہے شدید زخمی مریضوں کے ساتھ پانی خوراک ادویات بجلی ہر چیز کے بغیر وہ ان کے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر ابو صفیہ چاہتے تو اپنی جان بچا سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکلنا گوارا نہیں کیا، آخری لمحوں تک پہاڑ سی استقامت کے ساتھ وہاں موجود رہے۔ ڈاکٹر ابوصفیہ روسی شہریت رکھتے تھے چاہتے تو اس کے بعد غزہ چھوڑ جاتے لیکن وہ کیوں ایسا کرتے وہ تو غزہ آئے ہی فلسطینیوں کے لیے تھے انہوں نے ہر چیز برداشت کی بھوک، پیاس، گرمی، سردی پھر اپنے بیٹے ابراہیم کہ موت۔ جس کو دفنانے کے لیے ان کو صہیونیوں نے اسپتال سے باہر نہیں آنے دیا، انہوں نے اپنے پیارے بیٹے کو اسپتال کی دیوار کے ساتھ دفن کر دیا لیکن وہیں رہے۔ کئی دفعہ زخمی ہوئے لیکن ایک مرد آہن کی طرح انسانی خدمت کے لیے ڈٹے رہے۔ بار بار اقوامِ عالم کو آواز دی انہیں توجہ دلاتے رہے انسانی المیے کے بارے میں بتاتے رہے لیکن اقوام عالم نے ان کی ایک نہ سنی آخر صہیونیوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان سے قبل ڈاکٹر مراد الفوقاء جو الشفا اسپتال میں ہڈیوں اور ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے کنسلٹنٹ اور اسی شعبے کے سربراہ تھے انہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بھی غزہ کی پٹی کے خطرناک ترین دور میں طبی اور انسانی فریضے کو نبھاتے ہوئے مریضوں کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ڈاکٹر الفوقاء کو 19 مارچ 2024 میں اسپتال کے محاصرے اور دھاوے کے دوران حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے اسپتال میں فرائض منصبی انجام دیتے ہوئے زخمی اور بیماروں کا علاج کر رہے تھے، اس وقت سے لے کر آج تک قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر مراد الفوقاء کی آنکھ صہیونی تشدد سے شدید زخمی ہوئی جس سے ان کی بینائی سخت متاثر ہوئی ہے، وہ جسمانی اور ذہنی تشدد کا بھی شکار ہیں اور ڈسک سلپ، ہائی بلڈ پریشر اور معدے کے السر میں مبتلا ہیں اور انہیں دو ماہ سے زیادہ عرضے سے بلڈ پریشر کی دوا سے محروم رکھا گیا ہے جس سے ان کی زندگی اور صحت کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صہیونی قید میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تشدد، بھوک، طبی غفلت اور تنہائی کی قید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں سمیت ہیلتھ سیکٹر کے درجنوں کارکن دشمن کے عقوبت خانوں میں قید ہیں، ان ڈاکٹروں کو اسپتال کے اندر سے انسانی خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اٹھایا گیا اب صہیونیوں ظالمانہ قید اور تشدد اور طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث ان کی حالت بہت زیادہ بگڑ چکی ہے فلسطینی ڈاکٹروں اور طبی عملے کی گرفتاری ان پر تشدد انہیں طبی دیکھ بھال سے محروم رکھے جانے کے معاملے پر عالمی خاموشی قابض دشمن کو اپنی مجرمانہ اور ظالمانہ ہتھکنڈے جاری رکھنے کے لیے کھلا لائسنس فراہم کرتی ہے۔ ان کے ساتھ گرفتار ہونے والے کچھ قیدی جن کو شدید تشدد کے بعد رہا کیا گیا وہ رہائی پانے والے قیدی بتاتے ہیں کہ وہ اپنی رہائی سے دو دن پہلے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ سے ملے تو حیران رہ گئے ان کی حالت بہت خراب تھی ہم ان کی حالت دیکھ کر رو پڑے۔ ڈاکٹر فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم نے بتایا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کی صحت میں خطرناک بگاڑ ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ ان کے وکیل ناصر عودہ نے دو جولائی کو ڈاکٹر سے ملاقات کے دوران دیکھا کہ ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے انہیں سانس لینے میں دشواری ہے انہوں نے ان کے بار بار بے ہوش ہونے کی تصدیق کی۔
تنظیم کے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر ابو صفیہ کو ملاقات کے لیے ہاتھ پاؤں بندھی حالت میں لایا گیا تھا اور ان کے ارد گرد نقاب پوش اہل کاروں کا پہرہ تھا ان کے سر آنکھوں کے ارد گرد اور گردن پر تازہ اور گہری چوٹوں اور زخموں کے نشانات تھے اتنے واضح تھے کہ ان کے وکیل کو انہیں پہچانے میں مشکل ہوئی۔ ڈاکٹر حسام ابو سفیان غزہ کا ایک ایسا چہرہ ہے جو صہیونی درندگی اور ظلم کی زندہ دستاویز ہے یہ وہ طبی قیدی ہیں جن کو خدمات فراہم کرتے ہوئے اسپتال سے گرفتار کیا گیا جنہیں زنجیروں میں جکڑ کر ظالم اپنی فتح کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ اس کی فتح نہیں ہلاکت ہے۔