تخت کا قبلہ

وزیر داخلہ محسن نقوی کے باب میں اہمیت ان کے مرشد روحانی کی ہے۔ مرشد کی طرف دیکھنے اور مخاطب کرنے کی جرأت تو کسی میں نہیں جسے دیکھو ساری عبارت اور القاب محسن نقوی پر ضائع کررہا ہے۔ محسن نقوی کو دیکھیں تو سمجھ میں آتا ہے اقتدار کے بازار میں سب سے مہنگی چیز وفاداری نہیں، رسائی ہوتی ہے۔ ہر دربار میں ان کی رسائی ہے۔ کوچہ صحافت کے وہ سی این این ہیں، آصف علی زرداری کے بڑے بیٹے ہیں، نواز شریف اور مریم نواز انہیں پسند نہیں کرتیں پھر بھی وہ ان کی حکومت کے وزیر داخلہ ہیں اور یہ بھی ان کی مہربانی ہے کہ وزیرداخلہ ہیں وزیراعظم نہیں، اور بادشاہ گروں کے وہ آئینہ بھی ہیں اور ترجمان بھی۔ ان کے کان ہر دربار میں ہوتے ہیں لیکن زبان صرف ایک کی ترجمان ہے، طاقت کی، جس کے لیے وہ کبھی پل کا کردار ادا کرتے ہیں، کبھی ٹول پلازہ کا۔ وہ تاریخ میں نہیں حاشیہ میں موجود رہتے ہیں، ایسے حاشیہ میں تاریخ بھی جس کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی۔

محسن نقوی قوم کا درد رکھتے ہیں اور یہاں کون ہے جو جو قوم کا درد نہیں رکھتا۔ حکام رس ہیں اس درجے کے کہ خود کبھی تاج نہیں پہنتے مگر تاج کس کے سر پر سجے گا اس کی سر گوشی ان کے کان سے گزر کر آگے جاتی ہے۔ وہ بیشتر تین دانا بندروں کی طرح اندھے بہرے اور گونگے بنے رہتے ہیں اور عیش کرتے ہیں۔ اندھے اور بہرے لکھنا تو تمثیل کا تقاضا تھا ورنہ ان کی جیسی آنکھیں اور کان کسے نصیب، کیا پک رہا ہے اور کس کس کے کڑاہے میں پک رہا ہے ان سے زیادہ کون دیکھ اور سن سکتا ہے۔ البتہ گونگے بنے رہنے کی بات درست ہے۔ وہ دھیمے لہجے میں آہستگی سے بات کرتے ہیں اور اگر بات سیاست کی ہو تو بہت کم۔ سال میں ایک دومرتبہ۔

ایک نوجوان بہت قناعت پسند تھا۔ اس کی ایک ہی محبوبہ تھی۔ ہر چند کہ اس کی طبیعت ادھر نہیں آتی تھی تاہم پھر بھی ایک دن اس نے محبوبہ سے شادی کی درخواست کردی۔ وہ راضی ہوگئی لیکن اس نے شرط رکھی کہ سال میں ایک دن وہ گھر میں نہیں رہے گی۔ نوجوان مان گیا۔ شادی کے بعد محاورے کے مطابق خوشی خوشی رہنا ان کی مجبوری تھی۔ شادی کے ایک سال بعد بیوی ایک دن کے لیے گھر سے غائب ہوگئی۔ نوجوان نے کوئی توجہ نہیں دی۔ اگلے سال کہیں گئی تو نوجوان کو تشویش ہوئی۔ تیسر ے سال اس نے جاننا چاہا کہ وہ کہاں جاتی ہے۔ وہ بھی چپکے سے اس کے پیچھے ہو لیا۔ پتا چلا کہ وہ جنگل میں جاتی ہے اور وہاں ناگن بن کر پھنکارنے لگتی ہے۔ آفرین ہے ان بیویوں پر جو سال میں صرف ایک بار ناگن بنتی ہیں لیکن محسن نقوی کے اس بار روپ بدلنے پر سب ناراض ہیں۔ نمائندگی کا اظہار کرنے پر سب نالاں ہیں حالانکہ ان کی خاموشی بھی کسی اور کی زبان ہوتی ہے۔ محسن نقوی صاحب کے منہ میں کس کی زبان پھنکارتی ہے سب کو علم ہے۔

ایک بادشاہ کی بہت سی بیگمات تھیں۔ بیگمات کے محلات بادشاہ کے محل سے پانچ میل دور تھے۔ بادشاہ ہر روز اپنے خادم خاص کو خصوصی پیغام دے کرایک بیوی کی طرف دوڑاتا۔ بادشاہ سو سال تک زندہ رہا۔ خادم خاص تیس سال کی عمر میں مرگیا۔ یہاں معاملہ برعکس ہے محسن نقوی جیسے کردار اور بادشاہ گر سو سال زندہ رہتے ہیں جب کہ ڈمی بادشاہ تیس سال زندہ رہتے ہیں۔ اس کھیل میں جو بادشاہ بنائے گئے ہیں نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری سب کو اپنی عمر شاہی کی درازی کا پتا ہے اس لیے سب خاموش ہیں۔ بے توقیری کی ردا کو قابل قبول بنانے اور ’’اسٹرونگ ری ایکشن‘‘ کا تاثر دینے کے لیے ن لیگ نے رانا ثنا اللہ کو آگے کردیا ہے اور زردادی صاحب نے مراد علی شاہ اور نثار کھوڑو کو کہہ دیا ہے۔ مانگے تانگے کی فرمانروائی میں اتنا ہی زور شو کیا جاسکتا ہے۔

زیادہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کی جو ہانڈی محسن نقوی نے چولھے پر چڑھائی ہے اس پر ن لیگ کو تو کوئی اعتراض نہیں سوائے اس کے کہ حسب قربت وطاقت عید پر زیادہ خوشامدی ملنے آئیں گے! اس سے زیادہ کیا ہوگا؟۔پیپلز پارٹی کو بھی اتنا ہی فرق پڑے گا کہ بھٹوکی فریم شدہ زیادہ تصاویر بنوانا پڑیں گی لیکن ان کا مسئلہ کراچی ہے؟ پیپلز پارٹی سندھ نہ ڈیسوں سے زیادہ کراچی نہ ڈیسوں کو اپنی طاقت کا منبع تسلیم کرتی ہے۔ اقتدار عشق کی طرح ہوتا ہے، مکمل قبضہ چا ہتا ہے۔ کراچی کے بغیر یہ قبضہ ایسا ہی ہے جیسے آدمی بڑا تو ہوجائے لیکن بڑا آدمی نہ بن سکے۔ کراچی کے بغیر سندھ کی وہ مثل ہے جیسے محبوبہ کسی اور کے قبضے میں چلی جائے۔

فوج، وفاقی حکومت اور ایم کیوایم کراچی کو وفاق کے زیر قبضہ دیکھنا چاہتی ہے پیپلز پارٹی اس خواہش کے آڑے ہے۔ پیپلز پارٹی اب بڑی ہوکر چودہ پندرہ برس کا لونڈا ہوگئی ہے۔ ہاتھ پیر نکل آئے ہیں۔ تھپڑ مارو تو اپنے ہی ہاتھ پر چوٹ لگے گی۔ پیپلز پارٹی نے سندھی قوم پرستی کو بیدار کردیا تو اپنا ہی پہنچا اتر سکتا ہے۔ آصف علی زرداری جس طرح زیادہ وقت کراچی میں قیام پذیر رہتے ہیں اور بغیر مونچھ کے چہرے پرسندھی ٹوپی چڑھائے رکھتے ہیں۔ وہ قوم پرستی کے اسی سوئے ہوئے سانپ کی طرف اشارہ ہوتی ہے۔ مرادعلی شاہ نے محسن نقوی کو جواب دیتے سمے جس اہتمام سے سندھی ٹوپی پہنی اور سندھ کے صوفیا کا حوالہ دیا ہے وہ اسی بات کا اشارہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے نالائقو کے نزدیک کراچی کے بغیر سندھ رحلت اور عدم رحلت میں سے ایک کا انتخاب ہے۔

یہ اندازہ لگانے کے لیے ستارہ شناس ہونے کی ضرورت نہیں کہ فوج کو زرداری صاحب کی کوالی فی کیشنز کا اندازہ نہیں۔ فوج بھی اسی دھرتی کی پیداوار ہے جہاں حق کے لیے ڈٹ جانے پر کوئی تیار نہیں۔ پھر فوج کا بھی اصل مسئلہ زیادہ صوبے نہیں ہیں۔ بھارت سے جنگ کے بعد فوج کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ادارے وسائل سے چلتے ہیں۔ صوبوں کے نئے نقشوں کے ساتھ وسائل کا نقشہ فوج کے حق میں کیسے پلٹے گا؟ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں ان کے اثرات بجٹ پر بھی پڑتے ہیں۔ توپوں کی گھن گرج خاموش ہوجائے تو کیلکو لیٹر پر اعداد کی ٹک ٹک شروع ہو جاتی ہے۔ محسن نقوی کے بیان کے بعد جو کشمکش شروع ہوئی ہے وہ جغرافیے کی نہیں معاشیات کی ہے۔ نقشوں میں حدود اربعہ بعد میں طے ہوتا ہے پہلے خزانے پر بات ہوتی ہے۔ ریاست کا ہر بڑا فیصلہ وسائل کے ساحلوں سے ٹکراتا ہے۔

یہ پیش گوئی سفید ڈاڑھی کے بغیر بھی کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی زیادہ صوبوں کا معاملہ حسب سابق ایک بار پھر ٹل جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو جائے گا کہ پورے ملک میں بلدیاتی انتخابات ہو جائیں گے۔ قومی عظمت کے ثبوت میں کچھ سڑکیں، پل اور نالیاں بن جائیں گی۔ کراچی بدستور خراب وخوار رہے گا۔ اگلے چالیس پچاس برسوں میں شاید گل پلازہ کی عمارت پھر تعمیر ہوکر کچھ سابقہ دکانداروں اور وزیر وزراء میں بٹ جائے۔ اٹھائیسویں ترمیم کا اونٹ بھی کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ ہی جائے گا۔ صوبے دفاعی اخراجات میں شمولیت پر تیار ہو جائیں گے ورنہ اس بڑھاپے میں آصف علی زرداری اور اس ادھیڑ عمری میں بلاول کہاں جیلیں کاٹتے پھریں گے۔

تلوار اور خزانے کی جنگ چلتی رہتی ہے۔ اقتدار ایسا عشق ہے جس میں طلاق کا اختیار ان طاقتور کے پاس ہوتا ہے محسن نقوی جن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ نظام کولیپس کرچکا ہے لیکن کب تک؟ جیسے ہی خزانہ بھرے گا نظام پھر اسٹیبل ہو جائے گا۔ آخر میں بس اتنا عرض کرنا ہے کہ تاریخ کے قبرستانوں میں بادشاہوں کی قبریں تو ملتی ہیں مگر ان کے درباریوں کی قبریں کم ہی ملتی ہیں کیونکہ درباری مرتے نہیں، اگلے انتظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ محسن نقوی زندہ باد

Similar Posts

  • | |

    媒体、人文交流与致中国人民的巴基斯坦声音(第四部分)

    在当今世界,外交已不再局限于高堂华屋、政府部委与官方协议。现代国家间关系的真正根基,建立在民间交往、学术交流、文化融通与有担当的新闻传播之上。如果说两国政府打开了友谊的大门,那么媒体、高校、作家、艺术家、教师、学生以及广大普通市民,就是将这份友谊真正送入彼此心田的使者。 巴中两国关系之所以历久弥坚,一个重要原因在于两国不仅在官方层面,更在民间层面持续付出努力,以求相互理解、日益亲近。学习中文的巴基斯坦青年与日俱增,数以千计的巴基斯坦留学生在华深造,来到巴基斯坦的中国专家、工程师、教师和投资者源源不断,两国间频繁的文化与教育交流,更为这一传统友谊赋予了全新的时代内涵。 媒体:信任的默默建设者 在这个信息飞速传播的时代,媒体不仅是新闻的传递者,更是构建国家间信任的有力桥梁。一名恪守职责的新闻人、一篇客观公正的深度分析、一部真实详实的纪录片或一篇严谨的调研文章,都能在千万人心中塑造出一个国家的真实形象。 正因如此,巴中两国媒体肩负的责任比以往任何时候都更加重大——我们应当杜绝耸人听闻的炒作,转而大力弘扬真实客观、深度研究与积极正向的体验。将中国的科技进步、工业变革、教育体制、绿色环保项目以及社会秩序展现给巴基斯坦民众固然至关重要;同样地,向中国人民展示巴基斯坦的多彩文化、热情好客、青年潜力、媒体活力与发展前景也不可或缺。 作为一名新闻从业者,我深知笔端的责任绝不仅仅是撰写新闻,更是要在不同民族之间架起一座信任、尊重与对话的桥梁。 十人巴基斯坦媒体代表团:友谊的新篇章 本篇随笔收尾之际,恰逢一支由十人组成的巴基斯坦媒体代表团即将启程,赴中华人民共和国进行考察与友好访问。这支代表团不仅是一个记者群体,更承载着巴基斯坦人民对中国人民的深情厚谊、美好祝愿与赤诚之心。 此次访问旨在近距离观察、理解中国的经济发展、科技成就、现代工业、媒体生态、文化教育、技术创新、城市规划及社会民生,并将这些切身体验真实、客观地呈现给巴基斯坦民众。此类访问能够有效消除隔阂、增进互信,进一步筑牢两国民意的纽带。 我有幸作为代表团一员参与此次中国之行。在我看来,这不仅是一项专业的工作职责,更是一份代表巴基斯坦人民出访的至高荣誉。我将竭尽所能,亲眼见证中国的蓬勃发展、人民的勤劳自律、科研的卓越突破以及文化的独特魅力;归国后,我也必将本着求真、严谨与负责的态度,将这一切分享给我的读者。 致中国人民的巴基斯坦声音 若能有幸直接与中国人民对话,我首先想表达最诚挚的谢意——感谢你们在过去七十五年间,无论风雨欢笑,始终与巴基斯坦风雨同舟、并肩前行。在巴基斯坦人民心中,这段情谊绝非普通的外交关系,而是信任、真诚与相互尊重结出的累累硕果,是两国深厚交情的生动象征。 我们对中国举世瞩目的发展成就、科技突破、工业变革、严谨秩序与勤劳品质致以崇高敬意。我们坚信,这条繁荣之路不仅属于中国,更为整个亚洲注入了强大信心。 我们深切期盼,在未来的岁月里,巴中关系的内涵将远远超越政府与机构的框架,进而在学生、教师、科学家、记者、艺术家、作家、企业家以及广大青年之间展现出同样的勃勃生机与热忱。当两国人民能够深入了解彼此,信任便会更加坚实,未来也会愈发光明。 友谊之旅,未完待续 早在多年前,伟大诗人阿拉玛·穆罕默德·伊克巴尔(Allama Muhammad Iqbal)就曾预言东方复兴的曙光: “睁开双眼吧!看这大地,看这苍穹,看这浩瀚无垠的空间, 且看那轮东方冉冉升起的旭日。” […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *