سیاست کا مابعد الطبیعیاتی المیہ

تاریخ انسانی کے صفحات مادی عروج و زوال کا محض کوئی جبری مینی فیسٹو نہیں ہیں، بلکہ یہ اجتماعی شعور کی ارتقائی یا انحطاطی کیمیا گری کے ایسے مستند شواہد ہیں جن کے پس ِ منظر میں تہذیبی روح کی بیداری یا اس کا احتضار پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب ہم عصرِ حاضر کے سیاسی منظر نامے کو ایک گہری فلسفیانہ اور ساختیاتی آنکھ سے دیکھتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ سیاست، جو اصلاً عمرانی وجود کو ایک متبادل اور انصاف پرور نظم دینے کا نام تھی، آج اخلاقی وجودیات سے یکسر محروم ہو چکی ہے۔ یہ زوالِ عصر محض کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں، بلکہ اس عالمگیر فکری کج روی کا عکاس ہے جہاں اقتدار اب اجتماعی فلاح کا وسیلہ نہیں بلکہ فلاحِ ذات کا ایک منافع بخش اور منظم کارپوریٹ کاروبار بن چکا ہے۔ خاص طور پر ان پسماندہ اور نوآبادیاتی نفسیات کے اسیر معاشروں میں جہاں عوامی ارادے کو ہمیشہ مصلحتوں اور پس ِ پردہ مقتدر بیساکھیوں کے آہنی شکنجوں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے، وہاں سیاست کا اصل اخلاقی جوہر تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر چکا ہے۔ ان مفلوج سماجوں میں بدعنوانی اور ادارہ جاتی سٹراند کے اتنے ہولناک انبار لگ چکے ہیں کہ اب خود احتسابی کا پورا تصور ہی ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، کیونکہ وہاں اقتدار کی مشروعیت عوام کے آزادانہ اخلاقی انتخاب سے نہیں بلکہ مقتدرہ کی کاسہ لیسی اور ڈرائنگ رومز کی سازشوں سے کشید کی جاتی ہے۔

کسی بھی پائیدار عمرانی معاہدے کی بقا صرف آئین کے خشک اور بے روح کاغذوں پر نہیں، بلکہ ان لایموت انسانی اقدار پر ہوتی ہے جو معاشرے کے رگ و پے میں خون بن کر دوڑتی ہیں۔ ایثار، رواداری، سچائی، انصاف اور رزقِ حلال جیسے مابعد الطبیعیاتی عناصر جب کسی قوم کے اجتماعی لاشعور سے کھرچ دیے جائیں، تو وہاں پھر لیڈر نہیں بلکہ سیاسی بونے اور مصلحت پسند سوداگر جنم لیتے ہیں جو اپنی عارضی بقا کی خاطر اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، عالمی تاریخ کے افق پر جو کردار ہمیشہ کے لیے لافانی ہوئے، انہوں نے اقتدار کو اقدار کی قربان گاہ پر قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ امریکی سول رائٹس تحریک کی فکری اساس اس کی ایک شاندار اور محققانہ مثال ہے، جہاں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے عدم تشدد کے فلسفے کو ایک سیاسی ہتھیار کے بجائے ایک اخلاقی کلمہ حق کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے سفید فام اکثریت کے سوئے ہوئے ضمیر کو کسی مادی لالچ سے نہیں بلکہ اخلاقی برتری کے آفاقی اصولوں سے جھنجھوڑا۔ اسی طرح صدر ابراہم لنکن کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ جب بقائے باہمی اور انسانی مساوات جیسے اصول داؤ پر لگے ہوں، تو ایک سچا مدبر تاریخ کی بدترین خانہ جنگی اور لاکھوں جانوں کے زیاں کا بوجھ تو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے، مگر کسی فکری سمجھوتے کے تحت انسانیت کی تذلیل قبول نہیں کرتا۔ یہ ابراہم لنکن اور مارٹن لوتھر کنگ کا اخلاقی سرمایۂ حیات ہی تھا جس نے انہیں مادی دنیا کے قاتلانہ گولیوں کا ہدف تو بنا دیا، لیکن تاریخ کے اوراق میں انہیں ہمیشہ کے لیے لافانی بنا دیا۔

اسی فکری اور نظریاتی تسلسل کا ایک معاصر اور سحر انگیز مظہر ہمیں اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں بارک اوباما کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں نسلی عصبیتوں کی جڑیں گہری تھیں، ایک ایسے شخص کا صدارت کے منصب ِ جلیلہ تک پہنچنا جس کا بچپن باپ کے سائے سے محروم رہا اور جس کی پرورش اس کی ماں نے شدید کٹھن حالات میں کی، محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ انسانی عزم کی معراج ہے۔ اوباما کی تصنیف “Dreams from My Father” محض ایک ذاتی سرگزشت نہیں، بلکہ یہ اوباما کے اس سحر انگیز اور فصیح و بلیغ اسلوبِ بیاں کا علمی صحیفہ ہے جس نے الفاظ کو نئی تاثیر اور مکالمے کو ایک ارفع تہذیبی وژن عطا کیا۔ وہ رہنما جو تاریخ میں اپنی حیات کا پائیدار اور انمٹ نشان چھوڑنا چاہتے ہیں، وہ اقتدار کی کرسی چھن جانے کے بعد بھی گمنامی کے اندھیروں میں نہیں کھوتے، بلکہ اپنی فکر انگیز نگارشات اور پائیدار ادارہ سازی کے ذریعے اگلی نسلوں کے لیے ایک علمی اور فلاحی ورثہ چھوڑ جاتے ہیں۔ شکاگو کے افق پر ابھرنے والا کثیر المقاصد ’اوباما سینٹر‘ اسی فکری جلا اور تعمیری شعور کا ایک بے مثال ثبوت ہے، جہاں اوباما فاؤنڈیشن نے خطیر سرمایہ کاری کر کے دنیا بھر کے محققین، مفکرین اور عام نسل ِ نو کے لیے علم، ثقافت اور سماجی فلاح کا ایک ایسا عالمگیر مرکز قائم کیا جس کے افتتاح پر عالمی رہنماؤں کا اکٹھ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ حقیقی پذیرائی مادی طاقت کی نہیں بلکہ فکری بالادستی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔

مگر جب ہم اس عالمی اور باوقار سیاسی تناظر کا موازنہ اپنے مقامی سیاسی منظر نامے سے کرتے ہیں، تو ایک گہرا علمی اور فکری تاسف روح کو گھائل کر دیتا ہے۔ ہمارے ہاں نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست کے افق پر جو چہرے مصنوعی سیاروں کی طرح بار بار نمودار ہو رہے ہیں، ان کی اپنی کوئی فکری پرواز ہے نہ کوئی نظریاتی جڑیں؛ ان کی عارضی اور بیساکھیوں پر ٹکی اڑان ہمیشہ کسی نہ کسی مقتدر راکٹ اور خفیہ مصلحتوں کی محتاج رہی ہے۔ یہاں گفتگو مینی پولیشن (manipulation) کا دوسرا نام ہے،

الفاظ اپنی تاثیر سے تہی دست ہو چکے ہیں، اور سیاست محض ذاتی تجوریوں کو بھرنے، غیر ملکی جائدادیں بنانے اور آف شور اکاؤنٹس کو وسعت دینے کا ایک مکروہ دھندا بن چکی ہے۔ جب کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کا اس سطح پر قحط الرجال ہو جائے، تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ اگلی نسلوں کے لیے کوئی قابل ِ فخر فکری یا فلاحی ورثہ چھوڑنے کے بجائے، خود جیتے جی تاریخ کا ایک عبرت ناک نشان بن جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی مسخ شدہ تاریخ کے نوحے پڑھنے کے بجائے، سرحدوں کے پار پھیلے ہوئے ان آفاقی اور سچے فکری ذرائع سے رجوع کریں، جہاں اقتدار کو فلاحِ ذات کی ہوس کے لیے نہیں، بلکہ انسانیت کی فلاح اور ایک پائیدار ’نشانِ زندگی‘ قائم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے سیاسی سفر کی سمت کو اخلاقی خطوط پر استوار نہ کیا، تو تاریخ کا بے رحم پہیہ ہمیں ریت کے ذروں کی طرح اڑا دے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *