اسٹاک ایکسچینج ‘100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر مزید 2.7 فیصد کم ہوگیا

کراچی(کامرس رپورٹر)امریکی اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑا اور بھاری سرمایہ کاری والے شعبوں میں فروخت کے دباؤسے پورے ہفتے مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر مزید 2.7 فیصد کم ہوگیااور انڈیکس 4700پوائنٹس گھٹ گیا۔ہفتہ رفتہ کے دوران مجموعی انڈیکس 175800سے کم ہو کر171000کی سطح پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے 512 ارب روپے ڈوب گئے اور ایک ہفتے کے دوران4نفسیاتی حدیں گر گئیں۔ بازار میں ہفتہ بھر میں 3.48ارب شیئرز کے سودے 138ارب روپے میں طے ہوئے جبکہ ہفتے کے دوران یومیہ اوسط تجارتی حجم 69 کروڑ 60 لاکھ حصص جبکہ یومیہ اوسط کاروباری مالیت 28 ارب روپے رہی۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ بھر میں 100انڈیکس 4781پوائنٹس کم ہو گیا اور انڈیکس 175802پوائنٹس سے کم ہو کر 171021پوائنٹس پر بند ہوااسی طرح 1546پوائنٹس کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس 52497پوائنٹس سے کم ہو کر 50951پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 106568پوائنٹس سے کم ہو کر 103836پوائنٹس پر آگیا۔کاروبار مندی سے ایک ہفتے کے دوران سرمایہ کاروں کے 512ارب2کروڑ75لاکھ66ہزار900روپے ڈوب گئے اور سرمائے کا مجموعی حجم 19278ارب39کروڑ21لاکھ18ہزار912روپے رہ گیا۔ہفتے وار کاروبار کے دوران انڈیکس178370کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہوا جبکہ ہفتہ وار کم ترین سطح 169512پوائنٹس رہی۔اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ رفتہ کے دورانزیادہ سے زیادہ35ارب روپے مالیت کے 1ارب حصص کے سودے ہوئے جبکہ کم سے کم 23ارب روپے مالیت کے 52کروڑ51لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ بھر میں مجموعی طور پر 2364کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 818کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ،1363میں کمی اور183کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے سنر جیکوپاک،پاک ریفائنری،ٹی پی ایل پراپرٹیز،ٹرسٹ بروکریج،کے الیکٹرک لمیٹڈ،لوٹے کیمیکل،ورلڈ کال ٹیلی کام،بینک آف پنجاب،میپل لیف،فرسٹ نیشنل ایکوٹیز،پاک ریفائنری،ٹٰی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ،دیوان سیمنٹ،پاک انٹر نیشنل بلک،کوہ نور اسپننگ،میڈٰیا ٹائمز لمیٹڈ اور ویوز ہوم اپلائنس سر فہرست رہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *