نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں‘عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنادیا
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم اور قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق دائر کیسز پر ایک اہم اور حتمی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نیب کے انفرادی کیسز کی براہِ راست سماعت کرنا اعلیٰ عدلیہ کا اختیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے احتساب قوانین کی آئینی حیثیت اور نیب مقدمات کی کارروائی سے متعلق زیر التوا درخواستوں کو عدم سماعت قرار دے کر خارج کر دیا، جس کے بعد ملکی احتسابی نظام اور زیر التوا مقدمات میں ایک نیا قانونی موڑ آ گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی رولنگ میں آبزرویشن دی کہ نیب کیسز کے ٹرائل اور ان کے فیصلوں کا جائزہ لینا متعلقہ احتساب عدالتوں اور ہائیکورٹس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ ڈائریکٹ احتسابی عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتی اور نہ ہی نیب کے تحت چلنے والے تمام انفرادی مقدمات کو براہ راست سن سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے آئینی و قانونی دائرہ کار کی واضح حد بندی ہو گئی ہے، جس کے بعد اب نیب کے مقدمات پر متعلقہ ہائیکورٹس اور احتساب عدالتیں ہی درخواستوں اور اپیلوں پر سماعت جاری رکھیں گی۔