کراچی میں ہزاروں غیر قانونی تعمیرات جاری ‘ ڈی جی ایس بی سی اے کازیرو برداشت کا بیان مضحکہ خیز ہے ‘ سیف الدین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے بلڈر نامی تنظیم کے پروگرام میں کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے کی جانب سے زیرو برداشت کے مؤقف کو حیران کن اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے کہ یا تو وہ زمینی حقائق سے بالکل ہی نا واقف ہیں یا پھر بلڈر مافیا کے اس قدر دبائو میں ہیں کہ کچھ کر ہی نہیں سکتے ، اگر واقعی وہ غیر قانونی تعمیرات کے لیے زیرو برداشت کی پالیسی پر ایک فیصد بھی عمل کرتے تو شہر کا یہ حال نہ ہوتا ،غیر قانونی تعمیرات میں کھربوں روپے کا کالا دھن گردش کر رہا ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ، اس وقت کراچی کی گلی گلی میں اور خاص کر شہر کی منظم آبادیوں میں بلڈر مافیا راج کر رہی ہے ، بلڈر مافیا کو انتظامیہ اور ایس بی سی اے کے افسران کی کھلی سرپرستی حاصل ہے،نہ صرف یہ لوگ کھلے عام غیر قانونی تعمیرات کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف شکایت کرنے والوں کو ڈرایا دھمکایا اورپولیس کو ساتھ ملا کر جھوٹے مقدمات میں پھنسایاجاتا ہے ،معاملہ یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈالا جا رہا ہے ، یوسی چیئر مین جو شکایات کرتے ہیں ان میں سے کسی پر بھی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ شکایت ہونے کے بعد غیر قانونی تعمیر کی رفتار میں اضافہ ہو جا تا ہے ، بلڈنگوں کو باہر سے مکمل دکھا کر جعلی رہائش کنندہ بیٹھائے جاتے ہیں اور یہ سب بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کے زیر سایہ ہوتا ہے ، غیر قانونی تعمیرات اس قدر جلدی میں کی جاتی ہیں کہ ان کو مخدوش عمارات کے زمرے میں ڈالا جاسکتا ہے ، غیر قانونی تعمیرات سے ہر علاقے میں پانی ، سیوریج ، پارکنگ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں لیکن کالا دھن کمانے کی ہوس سے کراچی برباد ہو رہا ہے اور کچھ لوگوں کے خزانے بھر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلڈر مافیا نے قانونی نظام اور عدالتی کارروائی سب کو غیر موثر کر دیا ہے ، انہوں نے وسیم شمشاد صاحب کو دعوت دی کہ وہ کسی دن ان کے ساتھ کچھ علاقوں کا دورہ کریں تو شاید زمینی حقائق جاننے کے بعد وہ ایسے بیانات دینے کے بجائے کچھ عملی اقدامات کرنے کا سوچیں ۔