پنجاب پر قرض کا بوجھ بڑھ گیا، فی کس قرضے کی شرح میں اضافہ
لاہور: پنجاب کے قرضے مسلسل بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے مجموعی قرضے 1,757 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ اس اضافے کے بعد پنجاب کے ہر شہری پر اوسطاً 13 ہزار 538 روپے قرض کا بوجھ آ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جون 2024 میں پنجاب حکومت کے مجموعی قرضے ایک ہزار 685 ارب روپے تھے، جبکہ جون 2025 تک یہ بڑھ کر ایک ہزار 757 ارب روپے ہو گئے۔ اس طرح ایک سال کے دوران صوبے کے قرضوں میں تقریباً 72 ارب روپے جبکہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر تقریباً 75 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت پر واجب الادا تمام قرضے بیرونی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں میں اضافہ ترقیاتی منصوبوں، مالی ضروریات اور حکومتی اخراجات سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم قرضوں کے مؤثر انتظام اور بروقت ادائیگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضوں کے باوجود اگر حاصل ہونے والی مالی معاونت کو انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور دیگر پیداواری منصوبوں پر مؤثر انداز میں خرچ کیا جائے تو اس کے مثبت معاشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری جانب غیر ضروری قرضوں میں اضافہ مستقبل میں مالی دباؤ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے قرضے اور ان کی پائیداری کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رہے اور عوام پر بالواسطہ مالی بوجھ میں مزید اضافہ نہ ہو۔