بندوق تو ناکام ہو گئی، اب لوگوں کو سینے سے لگا کر دیکھیں
تاریخ قوموں کو اچانک سزا نہیں دیتی۔ وہ پہلے بار بار خبردار کرتی ہے، دروازے پر دستک دیتی ہے، دیواروں پر نشان چھوڑتی ہے، اور آخرکار اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر قومیں تاریخ کی آواز اس وقت سنتی ہیں جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ مجھے خوف ہے کہ پاکستان بھی آج ایسے ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں غلطیوں کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ایک طرف بلوچستان کئی دہائیوں سے بداعتمادی، شورش اور خونریزی کا شکار ہے، دوسری طرف خیبر پختون خوا دہشت گردی کی نئی لہر سے نبرد آزما ہے، جبکہ کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال قومی سلامتی کے لیے ایک اور بڑا امتحان بن چکی ہے۔ ان تمام محاذوں پر ہمارے فوجی جوان، پولیس اور سیکورٹی اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں، عام شہری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور قومی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ریاست اور اس کے تمام طاقتور اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا پاکستان مزید نئے محاذ کھولنے کا متحمل ہو سکتا ہے، یا اب وقت آ گیا ہے کہ تمام داخلی محاذ بند کر کے قوم کو متحد کیا جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ بندوق دہشت گرد کو مار سکتی ہے، لیکن محرومی کو نہیں؛ عسکری کارروائی علاقے کو وقتی طور پر خاموش کر سکتی ہے، لیکن دلوں میں پیدا ہونے والی دوریوں کو ختم نہیں کر سکتی۔ جہاں طاقت کی اپنی حد ختم ہوتی ہے، وہاں انصاف، تعلیم، خدمت اور مکالمے کا سفر شروع ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی تاریخ پر ایک ایسا سایہ بھی موجود رہا ہے جسے عوام عموماً ’’بڑے بھائی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ملک میں ایک عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ سیاسی عمل کو اپنے فطری راستے پر چلنے دینے کے بجائے بار بار نئے سیاسی تجربات کیے گئے، نئی قیادتیں تراشی گئیں، کچھ قوتوں کو غیر معمولی سہارا ملا اور کچھ کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا۔ ان پالیسیوں کے بارے میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ سیاسی انجینئرنگ نے نہ جمہوریت کو مضبوط کیا اور نہ ہی قومی استحکام کو۔ آج پوری دیانت داری سے سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ ان مسلسل تجربات سے آخر قوم کو کیا ملا؟ اگر چند افراد کے اقتدار، دولت یا اثر و رسوخ میں اضافہ بھی ہوا تو کیا پاکستان مضبوط ہوا؟ کیا عوام کا اعتماد بڑھا؟ کیا قومی وحدت میں اضافہ ہوا؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اس راستے پر مزید چلنے کی کیا منطق باقی رہ جاتی ہے؟ اسی تناظر میں حافظ نعیم الرحمن کی بات محض ایک سیاسی نعرہ محسوس نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا سوال بن جاتی ہے جسے موجودہ حالات نے غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا یہ مؤقف زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان اب مزید سیاسی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بات آفتابِ نیم روز کی طرح نمایاں اور دیوار پر لکھی ہوئی ایک حقیقت بنتی جا رہی ہو۔ اختلاف ہر شخص کا حق ہے، لیکن زمینی حقائق سے آنکھیں بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ میری رائے میں آج پاکستان کو ایسی سیاسی قوتوں کی ضرورت ہے جن کے پاس صرف انتخابی نعرے نہیں بلکہ تربیت یافتہ، دیانت دار اور خدمت گزار کارکنوں کا منظم نیٹ ورک موجود ہو؛ ایسے کارکن جو اقتدار کے بغیر بھی تعلیم، صحت، رفاہِ عامہ اور قومی خدمت میں سرگرم رہتے ہوں۔ بلوچستان، خیبر پختون خوا، کشمیر، سندھ اور پنجاب ہر جگہ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا پل بن سکیں۔
یہاں جماعت اسلامی کی تنظیمی قوت اور اس کے کارکنوں کا کردار قابلِ توجہ ہے۔ کراچی سے لے کر دور دراز علاقوں تک، محدود وسائل کے باوجود اس کے کارکنوں نے خدمت، تعلیم، فلاح اور تنظیمی نظم کا ایک عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ کسی جماعت کو اقتدار تحفے میں دیا جائے، بلکہ صرف اتنا کہ عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے دیا جائے، سیاسی انجینئرنگ ختم کی جائے اور سب کے لیے یکساں میدان فراہم کیا جائے۔ ’’بڑے بھائیوں‘‘ سے آج شاید پوری قوم کی یہی گزارش ہے کہ پاکستان کو مزید تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ نئی سیاسی نرسریاں لگانے، مصنوعی قیادتیں تراشنے اور قوم کی قسمت کو بار بار آزمائش کے سپرد کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ اب فیصلہ بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے۔ پاکستان کو صرف دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن، نااہلی، سیاسی مداخلت اور ادارہ جاتی بے اعتمادی کے خلاف بھی ایک قومی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جب تک احتساب سب کے لیے یکساں نہیں ہوگا اور آئین سب پر یکساں نافذ نہیں ہوگا، اس وقت تک قومی استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں، انصاف سے قائم رہتی ہیں۔ اور تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو عزت دیتی ہے جو بروقت اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ لیتی ہیں۔ پاکستان کے پاس اب واقعی مزید وقت نہیں۔ اگر ہم نے اب بھی سیاسی انجینئرنگ، مصنوعی قیادتوں اور وقتی بندوبست کو ہی قومی حکمتِ عملی بنائے رکھا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔ ورنہ تاریخ کبھی شور نہیں مچاتی، صرف اپنا فیصلہ لکھ دیتی ہے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ’’پاکستان‘‘ والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں