کووڈ کے تناظر میں گین آف فنکشن پر بحث
امریکی ادارہ برائے صحت این آئی ایچ کے سابقہ سربراہ ڈاکٹر فاؤچی کی حوالے سے ایک پوسٹ میں نے پانچ سال پہلے چسپاں کی تھی۔ اس پوسٹ کے ہمراہ ایک یوٹیوب ویڈیو بھی تھی جو اب یو ٹیوب سے ہٹا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی میں نے فاؤچی اور گین آف فنکشن Gain of function کے حوالے سے متعدد تحریریں فیس بک کی ‘‘فیکٹ چیک’’ کی نظر ہوگئیں۔
گین آف فنکشن (Gain of Function) سے مراد کسی وائرس، بیکٹیریا یا دوسرے جاندار میں ایسی تبدیلی کرنا ہے جس سے اس میں کوئی نئی صلاحیت پیدا ہو جائے یا پہلے سے موجود صلاحیت بڑھ جائے۔ اس عمل کی خطرناکی کے پیش نظر 2014 میں اوباما کے دور میں ایسی کسی بھی ریسرچ کی فنڈنگ پر پابندی لگا دی تھی۔ 2017 میں این آئی ایچ نے اس مکمل پابندی پر نرمی کرتے ہوئے ہر کیس کو انفرادی طور پر جانچنے کا فیصلہ کیا۔ پچھلے سال گین آف فنکشن پر مکمل طور پر پابندی لگادی گئی ہے۔
کووڈ کے تناظر میں گین آف فنکشن پر بحث اس لیے اہمیت کی حامل ہوگئی تھی کہ کچھ سائنسدان اس شبہے کا اظہار کررہے تھے کہ گین آف فنکشن کے نتیجے میں ہی یہ وائرس چین میں واقع ووہان لیب سے لیک ہوا ہے جبکہ عوام کو امریکی ادارے این آئی ایچ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کی طرف سے یہی بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس چین کی ویٹ مارکیٹ پھیلا ہے جہاں چمگادڑوں جیسے جانور بیچے جاتے ہیں۔
بہرحال کل جب سینیٹر رون پال کی سربراہی میں چلنے والی ہوم لینڈ سیکورٹی اور گورنمنٹ افئیر کی کمیٹی میں ڈاکٹر فاؤچی کی حاضری اور سو سے زائد مرتبہ ان کو آئین کی پانچویں ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے جواب سے انکار کرتے ہوئے دیکھا تو وہ دور یاد آگیا جب فاؤچی اپنے آپ کو مطلق العنان حکمران سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ ڈاکٹر فاؤچی نے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ کہا کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سینیٹر رون پال کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ کسی بھی غلط جواب کے نتیجے میں ان کو قانونی طور پر پھنسا سکتے ہیں لہٰذا وہ آئین کی پانچویں ترمیم کا سہارا لیں گے۔
حالانکہ فاؤچی خود اس سے قبل یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ کبھی بھی کسی بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر ہر قسم کی جواب دہی کے لیے تیار ہیں کیوں کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ اس سے قبل رون پال کی سربراہی میں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے سنوائی میں انہوں نے رون پال کے ایک سوال پر دو ٹوک جواب دیا تھا انہوں نے کبھی بالواسطہ یا بلا واسطہ gain of function کو سپورٹ نہیں کیا۔ یہ بات حقائق کے خلاف تھی کیوں کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ انہوں نے gain of function کو ایک نان پرافٹ تنظیم Eco Health Alliance کے ذریعے فنڈ کیا تھا جس نے چین کی ووہان لیب میں گین آف فنکشن کے تجربات کیے تھے۔
سینیٹر رون پال کے سامنے یہ غلط بیانی ڈاکٹر فاؤچی کو قانونی طور پر بری طرح پھنسا سکتی تھی لہٰذا انہوں نے اس وقت کے صدر جو بائیڈن کا سہارا لیتے ہوئے اپنے لیے مستقبل میں بھی کسی معاملے میں معافی نامہ لے لیا۔ سینیٹر رون پال نے بہرحال فاؤچی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور سینیٹ میں ان کی حاضری سے ایک دن قبل ان کی ڈائری کے ہزار سے زیادہ وہ صفحات شائع کردیے جو ڈاکٹر فائوچی نے وفاقی حکومت کے دیے گئے کمپیوٹر میں لکھ رکھی تھی۔ یہ ڈائری جہاں فاؤچی کی ’’فرعونیت‘‘ کی جھلک دکھاتی ہے جہاں وہ فخر سے لوگوں پر ظالمانہ پابندی لگوانے میں اپنے کردار کی بات کرتے ہیں وہیں انہوں نے خود وائرس کے پھیلاؤ میں چین کی ویٹ مارکیٹ کے نظریے پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔
کووڈ کے دنوں میں جن احمقانہ پابندیوں کا نفاذ کرکے پوری دنیا کو بدل دیا گیا وہ اب ایک تاریخ کا حصہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ کووڈ نے دنیا تبدیل کرکے رکھ دی ہے۔ ہم دنیا کو پری کووڈ اور پوسٹ کووڈ حصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ خصوصی طور پر اسکول جانے والے بچوں کی ذہنی حالت ان پابندیوں نے تباہ کرکے رکھ دی جب کے ان کے متاثر ہونے کے امکانات صفر فی صد تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دنیا کی حکومتوں کا اختیا ر مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے اور دنیا کی زمام کار ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک WHO
امریکا سمیت دنیا بھر میں ایسی احمقانہ پابندیاں عائد کی گئیں جس کا نہ کوئی سائنسی جواز تھا نہ کامن سینس اس کی اجازت دیتی تھی۔ سب سے بڑی افتاد مذہبی اداروں پر ٹوٹی چاہے وہ گرجا گھر ہوں یا مساجد۔ ایسی حماقتیں بھی دیکھنے کو ملیں کہ گرجا گھر کو تو تالا لگادیا گیا مگر دو قدم پر واقع شراب خانے کو essential business کے نام پر کاروبار کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ لوگوں کو ریستوران میں ماسک پہن کر ہر لقمے کے بعد ماسک چڑھانے کی ہدایات جاری کی گئیں جیسے کے لقمے کے دوران کووڈ کا وائرس ہڑتال پر چلا جائے گا۔ لوگوں کو ایسا برین واش کیا گیا کہ میں خود اس بات کا عینی گواہ ہوں کہ ایک گاڑی میں ماسک پہنے پانچ افراد قریب قریب بیٹھے تھے لیکن جب ایک مسجد میں نماز کے لیے رکے تو صف بناتے وقت چھے فٹ دور کھڑے ہوگئے۔ یہ کیسا وائرس تھا کہ جو صرف عبادت خانوں میں حملہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ پاکستان کی حالت بھی اس سے کم نہیں تھی۔ پہلی افتاد وہاں پر مساجد پر ہی ٹوٹی تھی۔ دکانوں کو کچھ گھنٹے کھلنے کی اجازت دے کر چوبیس گھنٹے کا رش کچھ گھنٹوں میں ہی سمیٹ دیا گیا۔
شاید کووڈ وائرس سے کوئی معاہدہ ہوا تھا کہ وہ اس رش کے دوران بقول بزدار کاٹے گا نہیں۔
سب سے مضحکہ خیز اور دردناک پہلو یہ ہے کہ ایپسٹین فائلز میں نامزد ایک گھٹیا انسان جو اپنے کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم سے وائرس نہیں نکال سکا دنیا بھر میں وائرس سے لڑنے کا ٹھیکیدار ٹھیرا اور اس حوالے سے اس کی بات آسمانی صحیفے کی طرح سنی جانے لگی۔ اس کے بعد ویکسین کے نام پر تجرباتی mRNA جین تھیراپی مسلط کی گئی اس کے اثرات کے لیے تو پوری الگ مضمون درکار ہے۔