امریکا کیساتھ فی الحال مذاکرات نہیں ‘ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہورہاہے‘ ایران
تہران،واشنگٹن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری مذاکرات کا بنیادی مقصد فوری طور پر آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستے اور آمدورفت کے طریقہ کار پر اتفاق کرنا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات مثبت اور تعمیری انداز میں جاری ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشے سے متعلق بنیادی سمجھوتا ہو چکا ہے جبکہ مشترکہ اعلامیے کے بعض تکنیکی نکات پر بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق ہرمز کی موجودہ صورتحال کی اصل وجہ دیگر عوامل ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ ضروری ہوگا۔آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں ممکنہ ٹرانزٹ فیس کے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مرحلے پر ایران اور عمان کے درمیان فیس کی تقسیم یا رقم کے بارے میں کوئی حتمی بات چیت نہیں ہو رہی ۔ان کے مطابق جب کسی فریق کی جانب سے بحری خدمات فراہم کی جاتی ہیں تو ان خدمات کے عوض معاوضہ وصول کرنا ایک معمول کی بات ہے۔اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی اطلاعات کی بھی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم موجودہ مسائل پر ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ایک فطری عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ اقدامات کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ فی الحال ایران کی توجہ عمان کے ساتھ بحری راستے کے تعین سے متعلق مذاکرات پر مرکوز ہے۔دوسری جانب اسماعیل بقائی نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بھی موجودہ حالات میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گئے ہیں اور پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دورہ پاکستان کی دعوت کے حوالے سے سوال پر بقائی نے کہا کہ یہ دورہ مناسب وقت آنے پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دورے اچھے دوطرفہ تعلقات کا فطری حصہ ہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تین اہم علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں نئے انداز سے سوچ رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سیکورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جسے “غلط یا جعلی ثالثوں” سے خرید کر حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے پاکستان، ترکی اور سعودیہ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور اسے اس معاہدے پر فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک نے اپنے تجربات سے یہ سمجھا ہے کہ خطے کی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے حقیقت پر مبنی اور علاقائی سطح پر قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں۔اسماعیل بقائی کے مطابق ایسا کوئی بھی منصوبہ جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتا ہو اور خطرات کی درست نشاندہی کرتا ہو، خطے میں سکیورٹی کے قیام اور عدم استحکام کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول ایسے اقدامات خطے کو اسرائیلی خطرے سے پیدا ہونے والے عدم استحکام سے بھی محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ روشنی ہو یا اندھیرا، ایرانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ شطرنج کے پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مکمل مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے۔دوسری جانب پاکستان سعودی عرب، اور ترکیے کے درمیان دفاعی معاہدے پر اسرائیلی حکومت پریشان ہے۔اسرائیلی وزیر برائے امور تارکین وطن نے کہا کہ مکہ معاہدہ بہت خطرناک اور پریشان کْن پیش رفت ہے، یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا پہلے سے دفاعی معاہدہ ہے، اب اس میں ترکیے بھی شامل ہو گیا ہے جس کے ہمارے براہ راست اختلافات ہیں۔علاوہ ازیں ایران کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں آئے گی اور خطے میں اب بحری آمدورفت کے حوالے سے ایک نیا نظام تشکیل پائے گا۔ ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ علی نیک زاد نے ایرانی پارلیمنٹ میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ہی اپنے مخالفین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ آبنائے ہرمز پہلے کی طرح نہیں رہے گی۔علی نیک زاد کے مطابق ایران نے بارہا واضح کیا کہ جنگ کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے معاملات ماضی کے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائے جائیں گے، تاہم ان کے بقول مخالف فریق نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا۔انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت واضح ہوگئی ہے اور امریکا اور اسرائیل اب اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔ایرانی نائب اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس نئی صورتحال کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ نظام کی عملی شکل کیا ہوگی۔دریں اثناء ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ دشمنوں کو یقین تھا کہ دباؤ ڈال کر وہ ایران کو معاشرتی انہدام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی چالوں کو یکے بعد دیگرے ناکام بنایا۔یونیورسٹی آف تہران میں پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دشمنوں کو یقین تھا کہ دباؤ ڈال کر وہ ایران کو خشک سالی، لوٹ مار اور معاشرتی انہدام کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی چالوں(جو مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا، جاسوسوں کے نیٹورک، کرائے کے ایجنٹ اور ان کے مقامی نمائندوں پر مبنی تھیں) کو یکے بعد دیگرے ناکام بنایا۔انہوں نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے جنگی جرائم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو جارحیت، ناانصافی اور دھونس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی دور اندیشی اور بصیرت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا موجودہ استحکام اور سیکورٹی ان کی رہنمائی کے مرہونِ منت ہے۔قبل ازیںاقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات میں مزید رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی معاشی پالیسیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔مائیک والٹز نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندے مذاکرات کی میز پر بار بار مالی معاملات اور رقم تک رسائی کی بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے نمائندے مذاکرات کے دوران بار بار “پیسے، پیسے اور پیسے” کی بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول تہران بمباری کا سامنا تو کر سکتا ہے لیکن موجودہ معاشی دباؤ اس کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔امریکی سفیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی قیادت اس وقت امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے معاشی دباؤ ایک ایسے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اسے مذاکرات میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے۔دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم امریکی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔اب یہ معاملہ ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگ کے مستقبل سے متعلق اختلافات امریکی کابینہ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف تک پہنچ گئے ہیں۔امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف ا سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکا ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔انھوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔جبکہ امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا یہ جنگ ہار چکا ہے اور مسلسل لڑائی سے امریکا کمزور جبکہ ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق کرس مرفی نے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ جاری رکھنے سے امریکا کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی طاقت اور وسائل کو متاثر کر رہی ہے۔کرس مرفی نے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکا کمزور ہو رہا ہے جبکہ ایران مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے موجودہ جنگی صورتحال کو صدر ٹرمپ کے لیے ایک ناکام حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو مزید طول دینے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔سینیٹر مرفی کے مطابق اگر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ایک ایسے معاہدے کی بھی حمایت کریں گے جسے وہ خود ’’برا معاہدہ‘‘ سمجھتے ہوں۔امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی سمجھوتے کے ذریعے لڑائی ختم ہوتی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے تو اسے جنگ جاری رکھنے سے بہتر سمجھا جانا چاہیے۔دوسری جانب یمن میں حوثیوں کی اکثریتی تنظیم انصاراللہ کے حملے میں یمنی فوجیوں سمیت 7 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔یمنی فوج کا کہنا ہے کہ حملے موچا شہر میں فوج اور شہری مقامات پر کیے گئے، دفاعی نظام سے حوثیوں کے 11 ڈرونز مار گرائے گئے۔جبکہ امریکا نے حوثی حملوں کے خلاف یمن کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی واشنگٹن کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی مشن برائے یمن کے ناظم الامور نیل ہوپ نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران نیل ہوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یمن سے متعلق پالیسی ترجیحات سے آگاہ کیا اور کہا کہ امریکا یمن کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔امریکی حکام کے مطابق اس تعاون میں خاص طور پر بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور خطے کے دیگر اہم سمندری راستوں میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔قبل ازیں یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی حکام نے ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان میں واقع آرامکو ریفائنری کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔سعودی وزارت توانائی کے مطابق ریفائنری میں آگ لگی تھی جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔ وزارت نے آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں کی، تاہم متعلقہ ادارے واقعے سے نمٹنے اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔جازان ریفائنری سعودی عرب اور عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم تنصیب ہے۔ یہ ریفائنری روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پٹرول کے علاوہ الٹرا لائٹ سلفر ڈیزل جیسی مصنوعات تیار کرتی ہے۔علاوہ ازیں ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ زندہ واپس نہیں جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے واضح کیا کہ ملک کی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ایران کی سرحدوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔دریں اثناء ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر میجرجنرل محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کردیا، جس کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے انہیں کونسل کا نیا سیکرٹری تعینات کردیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی جانب سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا کہ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر میجرجنرل محسن رضائی کو سپریم لیڈر نے سپریم نیشنل کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔سپریم لیڈر نے اعلامیے میں محسن رضائی کے حوالے سے کہا کہ آپ کے بیش بہا تجربے کی روشنی میں سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل میں آپ کو اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں اور آپ مقدس دفاع کا 8 سالہ تجربہ رکھنے والی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں۔قبل ازیںپاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اہم خد و خال بھی ایران کے وزیر خارجہ سے شیئر کیے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عباس عراقچی سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے مکہ معاہدے کے ان مقاصد کی وضاحت کی جو اسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن و سلامتی میں کردار ادا کرنے سے متعلق ہیں۔بیان کے مطابق معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کرنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، جس میں خاص طور پر خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں پر توجہ مرکوز رہی۔اس سے قبل نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، جن میں کثیرالجہتی تعاون اور علاقائی پیش رفت شامل ہیں، پر تبادلہ خیال کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فونک گفتگو میں دو طرفہ سطح پر اور کثیرالجہتی فورمز میں مسلسل قریبی رابطہ کاری اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔علاوہ ازیںامریکا، ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 2.57 فیصد اضافے کے ساتھ85.70 ڈالر فی بیرل ہوگئی، امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 2.52 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد امریکی خام تیل کی نئی قیمت 80.15 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ادھرایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ آج ایرانی عوام دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں۔باقر قالیباف نے کہا کہ محسن رضائی کی ایرانی سلامتی کونسل میں شمولیت رہبر اعلیٰ کے اعتماد کی علامت ہے، رہبر اعلیٰ کی قیادت میں عوامی، فوجی، سفارتی میدان میں اتحاد و یکجہتی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا نے سمجھ لیا ہے کہ ایران کو جھکایا نہیں جاسکتا، ایرانی عوام دشمن کو اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں۔