امریکا میں ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور، ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا سیاسی دھچکا
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکی سیاست میں بڑی ہلچل کا باعث بنا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایوان نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران کے خلاف جاری جنگ کو روکیں اور وہاں تعینات امریکی فوجیوں کو بحفاظت وطن واپس بلائیں۔
قرارداد کی حمایت میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔
یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے صدر کے لامحدود جنگی اختیارات پر قدغن لگانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ پیش رفت ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی اور اپنی ساکھ مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
اگرچہ اس قرارداد کو ایوان میں بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے تاہم اس کا عملی نفاذ ابھی باقی ہے۔ قانون کے مطابق اسے سینیٹ سے منظور ہونے اور دیگر آئینی مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہوگی۔ تب تک اس کی قانونی حیثیت اور حتمی شکل پر بحث جاری رہے گی۔
اس قرارداد کے بعد امریکی سیاست میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کی بھاری مالی لاگت کا موضوع بھی دوبارہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔ کانگریشنل بجٹ آفس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اگست 2026 تک اس جنگ پر امریکا کے 38 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اخراجات کا یہ تخمینہ آنے والے وقتوں میں مزید بڑھ سکتا ہے جو ملکی معیشت پر بوجھ بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس میں جنگی اخراجات اور صدر کے اختیارات کے توازن پر سنجیدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے جو مستقبل میں اہم ثابت ہوگی۔