جوبائیڈن کا کینسر ہڈیوں تک پہنچ گیا، بیٹے نے صحت پر تشویش ظاہر کردی
واشنگٹن: سابق امریکی صدر جوبائیڈن کینسر کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور بیماری مزید پھیل چکی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے والد کی صحت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بیماری کی سنگینی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ہنٹر بائیڈن جذباتی ہوگئے اور والد کی بیماری کو انتہائی مشکل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کو اس حالت میں دیکھنا خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔
ہنٹر بائیڈن نے بتایا کہ کینسر ان کے والد کی ہڈیوں سمیت جسم کے مزید حصوں تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بیماری کو تکلیف دہ اور انسان کو انتہائی کمزور کرنے والی قرار دیا۔
دوسری جانب ہنٹر بائیڈن کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن آج بھی ان کے خاندان کا مرکز ہیں۔ انہوں نے والد کو بہترین والد، شوہر اور دادا قرار دیا اور خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنی بیماری کے بارے میں مزید گفتگو کریں۔
یاد رہے کہ جوبائیڈن نے صدارت سے سبکدوش ہونے کے 4 ماہ سے بھی کم عرصے بعد مئی 2025 میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ظاہر کی تھی۔ اس وقت بیماری خطرناک مرحلے میں پہنچ چکی تھی اور ہڈیوں تک پھیل رہی تھی۔
بعد ازاں اکتوبر میں جوبائیڈن کے ترجمان نے بتایا کہ سابق صدر ریڈیئشن اور ہارمون تھراپی کے ذریعے علاج کرا رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق 83 سالہ جوبائیڈن نے بیٹے کے حالیہ انٹرویو پر تبصرہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ جوبائیڈن 2020 سے 2024 تک امریکا کے صدر رہے۔ اس سے قبل وہ 2009 سے 2017 تک باراک اوباما کے دور میں نائب صدر کے منصب پر فائز رہے اور جون میں شکاگو میں اوباما کی تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے۔