نظام کے بیٹھ جانے کا سب سے بڑا ثبوت خود محسن نقوی ہیں‘ جسٹس (ر) شوکت صدیقی

واہ کینٹ (صباح نیوز) سابق جج سپریم کورٹ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ ملک میں نظام کے بیٹھ جانے کا سب سے بڑا ثبوت خود محسن نقوی ہیں۔ جس نظام میں ایک ہی شخص بیک وقت وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا چیئرمین بن جائے، وہ نظام حقیقتاً کولیپس کر چکا ہوتا ہے۔واہ کینٹ میں امیر جماعت اسلامی واہ محمد ثاقب صدیقی کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں شرکت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پاکستان 1947ء سے ایسے ہی حالات کا سامنا کر رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر آنے والا حکمران یا بااختیار شخصیت اپنے ساتھ ایک نیا نظریہ لے آتی ہے، جس کے باعث اداروں میں تسلسل اور پالیسیوں میں استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہر آنے والا اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے اور یہ تصور کر لیتا ہے کہ نظام صرف اسی کے گرد گھومنا چاہیے۔ یہی سوچ اداروں کو کمزور کرتی ہے اور ریاستی نظام کو شخصیات کے تابع بنا دیتی ہے۔جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جب ریاستی ادارے افراد کے مطابق ڈھالے جانے لگیں تو ادارہ جاتی مضبوطی ختم ہو جاتی ہے اور میرٹ، آئین اور قانون کی حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اداروں کو شخصیات کے بجائے آئین اور قانون کے مطابق چلایا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو مضبوط اداروں، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے تاکہ فیصلے افراد کی خواہشات کے بجائے قومی مفاد اور آئینی تقاضوں کے مطابق کیے جا سکیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *