آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 40 میں ایک ووٹر کیلئے بھی پولنگ اسٹیشن
اسلام آباد (رضوان عباسی سے ): آزاد کشمیر انتخابات ایل اے 40 اپنی منفرد جغرافیائی حدود اور غیر معمولی انتخابی انتظامات کے باعث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس حلقے میں بعض علاقوں میں صرف ایک رجسٹرڈ ووٹر کے لیے بھی باقاعدہ پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے، جو انتخابی نظام کی ایک منفرد مثال قرار دی جا رہی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مہاجرین کے حلقہ ایل اے 40 وادی 1 کا دائرہ کار سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ دستیاب انتخابی اعداد و شمار کے مطابق حلقے میں کل 5 ہزار 777 رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں، جبکہ ان کی سہولت کے لیے 47 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
کراچی اس حلقے کا سب سے بڑا ووٹر مرکز ہے۔ کراچی ایسٹ میں 956 ووٹرز کے لیے 4 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ کراچی ویسٹ میں 924 ووٹرز کے لیے 2 پولنگ اسٹیشنز مختص ہیں۔ کراچی سینٹرل میں 702 ووٹرز کے لیے 5 پولنگ اسٹیشنز، کورنگی میں 621 ووٹرز کے لیے 2 اور کراچی ساؤتھ میں 567 ووٹرز کے لیے ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔
دیگر اضلاع میں بھی ووٹرز کی تعداد کے مطابق پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، تاہم کئی مقامات پر صورتحال غیر معمولی دکھائی دیتی ہے۔ جامشورو میں صرف 9 ووٹرز کے لیے 3 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، جبکہ دادو میں 2 خواتین ووٹرز کے لیے بھی ایک الگ پولنگ اسٹیشن مختص کیا گیا۔
سب سے دلچسپ صورتحال سندھ کے اضلاع قمبر شہدادکوٹ، عمرکوٹ، لاڑکانہ اور ٹنڈو الہٰیار میں سامنے آئی، جہاں صرف ایک ایک رجسٹرڈ ووٹر ہونے کے باوجود ہر ضلع میں الگ پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں کوئٹہ اس حلقے کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں 1 ہزار 167 ووٹرز کے لیے ایک مرکزی پولنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس پشین، قلعہ سیف اللہ، حب اور لورالائی میں صرف ایک ایک ووٹر ہونے کے باوجود ایک ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے، جبکہ ضلع سبی میں 3 ووٹرز کے لیے بھی الگ پولنگ اسٹیشن مختص کیا گیا۔
انتخابی ماہرین کے مطابق مہاجرین کے حلقوں کی مخصوص قانونی حیثیت اور ووٹرز کی جغرافیائی تقسیم کے باعث ایسے انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں تاکہ ہر رجسٹرڈ ووٹر کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا جا سکے۔