|

توشہ خانہ نئے قواعد و ضوابط، تحائف رکھنے پر پابندی منظور

اسلام آباد: توشہ خانہ نئے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی گئی ہے، جن کے تحت عوامی عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے لیے موصول ہونے والے سرکاری تحائف اپنے پاس رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ نئے قواعد کے مطابق ہر تحفہ مقررہ مدت کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔

قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی نے توشہ خانہ مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2024 کے تحت تیار کیے گئے قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے۔ ان قواعد کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، جس کے بعد انہیں سرکاری گزٹ میں شائع کرکے نافذ کیا جائے گا۔

کن افراد پر نئے قواعد لاگو ہوں گے؟
منظور شدہ مسودے کے مطابق یہ قواعد تمام عوامی عہدیداروں، سرکاری ملازمین اور سرکاری وفود کے نجی ارکان پر لاگو ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ تمام افراد جو سرکاری خزانے سے تنخواہ، مراعات یا دیگر مالی فوائد حاصل کرتے ہیں، بھی ان ضوابط کے پابند ہوں گے۔

تحفہ کتنے دن میں جمع کرانا ہوگا؟
نئے قواعد کے مطابق کسی بھی عوامی عہدیدار کو موصول ہونے والا تحفہ 30 روز کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔ اگر کوئی شخص مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہیں کراتا تو اس پر تحفے کی مارکیٹ قیمت کے پانچ گنا تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

سرکاری ملازمین کے معاملے میں جرمانے کے ساتھ ساتھ محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

تحائف کا کیا ہوگا؟
قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں موجود تمام موجودہ اور آئندہ جمع ہونے والے تحائف کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تحائف کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ملک کے پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی ابتدائی تعلیم پر خرچ کی جائے گی تاکہ سماجی ترقی کے منصوبوں کو مزید تقویت مل سکے۔

حکام کے مطابق نئے قواعد میں تحائف جمع کرانے، ان کی جانچ، ریکارڈ رکھنے اور نیلامی کے مکمل طریقہ کار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد ان ضوابط پر باضابطہ عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *