سکھر: زرعی پانی کی قلت کے خلاف آبادگاراتحاد کا تیسرے روز بھی احتجاج
سکھر(نمائندہ جسارت )سندھ اور بلوچستان آبادگار اتحاد کی جانب سے زرعی پانی کی شدید قلت کے خلاف احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، جبکہ اتحاد نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں ببرلو بائی پاس کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔احتجاج میں شریک آبادگاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ زراعت کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری طور پر پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے سندھ بلوچستان آبادگار اتحاد کے رہنماؤں محسن قاضی، حبیب اللہ جروار، میر حسن شہلانی اور دیگر نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نہروں اور شاخوں میں پانی نہ ہونے کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ کھڑی فصلیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث سوکھ کر تباہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی شدید قلت کے باعث آبادگاروں کو کروڑوں روپے کے معاشی نقصان کا سامنا ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ فصلوں کی کاشت بھی بری طرح متاثر ہوگی، جس کے سنگین اثرات ملکی زرعی معیشت پر مرتب ہوں گے۔رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے ببرلو بائی پاس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ آبپاشی کے افسران بیراجوں اور دفاتر میں موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔