قائدآباد میں بچی قتل کیس ، 3افراد کے ڈی این اے مل گئے

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) قائد آباد میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی ڈھائی سالہ بچی کے افسوسناک کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فرانزک لیبارٹری کی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق مقتولہ بچی کے کپڑوں سے کم از کم تین مختلف افراد کے ڈی این اے کے شواہد ملے ہیں، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، تاہم تحقیقات کے دوران مختلف پہلوو ¿ں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیش کے پہلے مرحلے میں 14 افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں مزید مشتبہ افراد کے سیمپلز بھی فرانزک تجزیے کے لیے جمع کیے گئے تاکہ رپورٹ میں سامنے آنے والے شواہد کا تقابل کیا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق بچی کے قتل میں اس کی چچی اور ایک قریبی رشتہ دار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر چچی نے بچی کو قتل کرنے کے بعد لاش کو کچھ وقت کے لیے گھر کے ایک کمرے میں رکھا، تاہم حالات سازگار نہ ہونے کے باعث ملزمان لاش کو کسی اور مقام پر منتقل یا ٹھکانے نہ لگا سکے، جس کے بعد اسے گھر کے باہر چھوڑ دیا گیا۔تحقیقاتی حکام کے مطابق ڈی این اے رپورٹ میں تین مختلف افراد کے نشانات سامنے آنے کے بعد یہ امکان بھی زیرِ غور ہے کہ واردات میں ایک سے زائد افراد شریک تھے۔ پولیس اس پہلو پر بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دیگر افراد نے قتل کی منصوبہ بندی، لاش کو منتقل کرنے یا شواہد مٹانے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں گرفتار خاتون کے شوہر کے خلاف کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے اس کا براہِ راست تعلق جرم سے ثابت ہوتا ہو، لہٰذا اس حوالے سے تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد تفتیشی ٹیم نے ڈی این اے شواہد کی روشنی میں مزید افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *