زیادہ بولنا اور فضول باتوں سے دل سخت ہوتا ہے، مولانا الیاس قادری

ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)دعوتِ اسلامی پاکستان کے سربراہ مولانا الیا س عطار قادری نے کہا ہے کہ زیادہ بولنا اور فضول باتیں کرنے سے دل سخت ہوتا ہے زیادہ ہنسنے سے دل یاد خدا سے غافل ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ باتیں دعوت اسلامی ٹنڈوجام کے تحت شہید بینظیر ٹاؤن ہال میں لائیو مدنی مذاکرہ اجتماع منعقد ہوا یہ اجتماع لائیو مدنی چینل پر ٹنڈوجام سے مدنی مذاکرہ میں شرکت کی اس اجتماع میں۔ انہوںنے مختلف افراد کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہاکہ دل کی سختی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نصیحت دل پر اثر نہ کرے گناہوںسے رغبت ہو جائے، گناہ کرنے پر کوئی شرمندگی نہ ہو اور توبہ کی طرف توجہ نہ ہودل کی سختی معمولی بیماری نہیں، دل کی سختی کوئی چھوٹی بیماری نہیں بلکہ اس کی وجہ سے انسان سے بڑے بڑے گناہ ہو جاتے ہیں، چوری،ڈکیتی،اور قتل وغیرہ،جیسے چھوٹے بڑے ظلم اور حق تلفی کے واقعات دل کی سختی کی وجہ سے ہوتے ہیں دل سخت ہونے کی وجہ سے انسان بڑے سے بڑا گناہ بھی کر جاتا ہے حتیٰ کہ کفر تک جا پہنچتا ہے یہ بیماری اللّٰہ پاک کی رحمت سے دور اور عبادت کی لذت ختم کر دیتی ہے سخت دل شخص گناہ کرنے میں دلیر ہو جاتا ہے یہی وہ بیماری ہے کہ جس کی وجہ سے نصیحت کی دوائیں بھی بالکل بے اثر ہو جاتی ہے دل کی سختی کتنی بڑی سزا ہے اس کا اندازہ حضرت مالک بن دینارؒکے اس فرمان سے بھی ہوتا ہے اللّٰہ پاک کی طرف سے دلوں اور جسموں میں کچھ سزائیں ہیں مثلا روزی میں تنگی، اور عبادت میں سستی اور بندے کے لیے دل کی سختی سے بڑی کوئی سزا نہیں ہے دل سخت کیوں ہوتا ہے زبان کا دل کے ساتھ گہرا تعلق ہے زبان جب زیادہ اور فضول چلتی ہے غلطیاں بھی اتنی زیادہ کرتی ہے اور دل کی سختی کا سبب بنتی ہے اسی وجہ سے حدیث پاک میں زیادہ بولنے کو دل کی سختی کا سبب قرار دیا گیا ہے چنانچہ فرمان مصطفٰے ﷺ ہے اے لوگو! ذکر اللّٰہ کے بغیر کلام کی کثرت سے باتیں کرنا دل کی سختی کا باعث ہے اور بے شک لوگوں میں اللّٰہ پاک سے زیادہ دور وہ شخص ہے جس کا دل سخت ہوآپ ﷺنے فرمایا! فحش گوئی سخت دلی سے ہے اور سخت دلی آگ میں ہے یعنی جو شخص زبان کا بے باک ہو کر ہر بری بھری بات بے دھڑک منہ سے نکل دیں سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں اسے بے دھڑک انسان کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللّٰہ پاک اور اس کے رسول کی بارگاہ میں بھی بے ادب ہو کر کافر ہو جاتا ہے زیادہ ہنسنا بھی دل کی سختی کا سبب ہے چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ذیادہ مت ہنسوکیوں کہ زیادہ ہنسنے دل مردہ ہو جاتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کر دیتا ہے۔ اجتماع میں حیدرآباد سٹی نگران سید محمد جمیل عطاری، مولانامحمد حسین عطاری المدنی(بنگلہ دیش) مولانا عبد الرحیم عطاری (بنگلہ دیش)ٹاؤن نگران محمدعارف عطاری سمیت کثیر لوگوں نے شرکت کی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *