سر سید یونیورسٹی میں بائیومیڈیکل انجینئرنگ کی پہلی پی ایچ ڈی مکمل

کراچی( پ ر)سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ نے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنی پہلی پی ایچ ڈی برائے بائیومیڈیکل انجینئرنگ کی تکمیل کا اعزاز حاصل کیا ہے۔انجینئر ثانیہ تنویر جو ڈاکٹر تنویر احمد طاہر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS) کی صاحبزادی ہیں نے یہ نمایاں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے بلکہ شعبے بائیومیڈیکل انجینئرنگ اور سر سید یونیورسٹی کے لیے بھی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان کی پی ایچ ڈی تحقیق ”مشین لرننگ کے ذریعے وٹیلیگو (Vitiligo) کی درست تشخیص” کے موضوع پر مبنی ہے، جو صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے بڑھتے ہوئے کردار اور جدید تشخیصی نظام کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ تحقیق بائیومیڈیکل انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کے ذریعے طبی تشخیص کے شعبے میں اہم پیشرفت کی جانب ایک مؤثر قدم ہے۔یہ تحقیقی کام پروفیسر ڈاکٹر سدرہ عابد سید، چیئرپرسن شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ، کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ ان کی رہنمائی اور سرپرستی نے اس تحقیقی سفر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ شعبے کی پہلی پی ایچ ڈی کی تکمیل نہ صرف یونیورسٹی کے لیے باعث فخر ہے بلکہ یہ مستقبل کے محققین اور طلبہ کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔مزید برآں ان کی یہ شاندار کامیابی نوجوان محققین اور طالب علموں کے لیے حوصلہ افزا مثال اور علمی میدان میں خواتین کی نمایاں پیش رفت کا ثبوت ہے۔اس تاریخی موقع پر سر سید یونیورسٹی، شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ اور جامعہ کی برادری انجینئر ثانیہ تنویر، پروفیسر ڈاکٹر سدرہ عابد سید اور ان کے اہلِ خانہ کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف انفرادی محنت، عزم اور استقامت کی عکاس ہے بلکہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے شعبے میں تحقیق و جدت کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *