برازیل کا امریکی ٹیرف کے خلاف عالمی تجارتی تنظیم سے رجوع کا اعلان
برازیلیا (انٹرنیشنل ڈیسک) برازیل نے امریکا کی جانب سے برازیلی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او ) کے تنازعات کے حل کے میکانزم میں لے جائے گا۔ برازیل کی حکومت نے بیان میں سیکشن 301 کے تحت کی گئی تجارتی تحقیقات کو من مانی اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جبری مشقت کے مسئلے کو اپنے تجاتی اداروں کو تحفظ دینے کی تجارتی پالیسی کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے انسانی حقوق اور دنیا بھر کے محنت کشوں کی جدوجہد سے متعلق ایک نہایت اہم معاملے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا حالانکہ برازیل نے تحقیقات کے دوران اپنے قوانین اور ان پر عمل درآمد کے نظام سے متعلق تمام ضروری دستاویزات اور وضاحتیں فراہم کی تھیں۔ برازیل نے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے باہمی کارروائی کے قانون کے تحت دستیاب جوابی اقدامات کرے گا اور اس تنازع کو ڈبلیو ٹی او کے تنازعات کے تصفیے کے میکانزم کے سامنے پیش کرے گا۔ واضح رہے کہ امریکا نے جبری مشقت کے خلاف قوانین پر موثر عمل درآمد نہ ہونے کے الزامات کے تحت برازیل سمیت درجنوں ممالک کی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے گے۔ دوسری جانب آسٹریلیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے جبری مشقت کے خلاف نافذ کیے جانے والے نئے ٹیرف کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ بات آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم رچرڈ مارلس نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے پر مایوس ہے جس کے تحت آسٹریلوی مصنوعات پر نیا ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نظر میں اس فیصلے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ہم تجارت اور جبری مشقت کے حوالے سے اپنے موقف کے بارے میں امریکی انتظامیہ سے مسلسل بات کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر تجارت و سیاحت ڈان فیرل نے بھی ایک بیان میں امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا امریکا آزاد تجارتی معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتا ۔