طبقاتی ذہنیت

میری معلومات زیادہ تر مذہبی ہیں، ہمارے پیغمبر صاحب نے ایک مثال دی، اس سے بہتر مثال مجھے اب تک نہیں ملی، میں اس لیے بھی اسے بیان کرتا ہوں کہ ایسی تصویر کھینچ دینے والی مثال مجھے نہیں ملی۔ ظلم وستم، انارکی، بدنظمی، فتنہ وفساد یہ اگر دنیا میں آئے تو اس کو روکنا چاہیے ہمت کر کے، چاہے اس میں کتنا نقصان ہو جائے، اگر نہیں روکو گے تو تم بھی نہیں بچو گے، اس کی آپؐ نے مثال دی کہ ایک کشتی ہے، اس پر لوگ جا رہے ہیں، دریا کا سفر ہے، اس میں ایک اَپرکلاس ہے، ایک لُوور کلاس ہے، ایک اوپر کا حصہ ہے جیسے کہ آج کل فرسٹ کلاس ہوتا ہے، اور نیچے ڈیک ہوتا ہے، کچھ مسافر ڈیک پر ہیں، اور کچھ مسافر فرسٹ کلاس میں ہیں، پانی کا انتظام اتفاق سے اوپر ہی ہے، کشتی تو دریا میں چل رہی ہے، لیکن دریا سے پانی لینا ہر ایک کے بس کا کام نہیں، ڈول ہو، رسی ہو۔ تو یہ نیچے والے پانی لینے اوپر جاتے ہیں، پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ گرتا ٹپکتا ہے، جب پانی لے کر آئے تو کشتی ہلنے والی تھوڑا اِس پر ٹپکا تھوڑا اُس پر ٹپکا، صاحب لوگوں نے، اَپرکلاس والوں نے آستینیں چڑھا لیں کہ صاحب پانی کی ضرورت آپ کو، پانی کی غرض آپ کو اور پریشان ہم ہوتے ہیں، دیکھیے ہم نے کپڑا بچھا رکھا تھا، فرش بچھا رکھا تھا، آپ نے اس کو بھگو دیا، دیکھیے ہمارے اوپر چھینٹے پڑ گئے، ہم آپ کو پانی نہیں لے جانے دیں گے۔
انہوں نے کہا: پانی کے بغیر کیسے رہا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: چاہے جو ہو ہم آپ کو پانی نہیں لے جانے دیں گے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ نیچے والوں نے سوچا کہ پانی تو ہم ضرور لیں گے پانی کے بغیر گزارہ نہیں، ایسا کرو کہ نیچے سوراخ کر لو، اور وہیں سے اپنا ڈول، لوٹا ڈال کر پانی نکال لیا کرو، آپؐ نے فرمایا کہ اگر ان لوگوں میں سمجھ ہے اور ان کو زندگی پیاری ہے کچھ ہوش گوش ہے تو یہ خوشامد کریں گے، ان کے پاس جائیں گے کہ تم پانی لینے آتے تھے اور ہم ناراض ہوتے تھے، ہم خود پانی پہنچا دیں گے، لیکن خدا کے لیے ہمارے اوپر رحم کھاؤ، کشتی میں سوراخ نہ کرو، اور اگر انہوں نے کہا کہ ہماری بلا سے، ارے بھائی! سوراخ تو نیچے ہو رہا ہے، اوپر تو نہیں ہو رہا ہے، ہم تو اوپر رہتے ہیں، ہم تو بالا نشین ہیں، ہم تو اپر کلاس کے لوگ ہیں، اور یہ لور کلاس کے ذلیل لوگ ہیں، سوراخ کر رہے ہیں تو نیچے کر رہے ہیں ، ہم تو آرام سے رہیں گے، آپؐ نے فرمایا: جب سوراخ ہوگا تو نہ لوور کلاس والے بچیں گے اور نہ اپر کلاس والے بچیں گے، کشتی ڈوبے گی تو سب کو لے ڈوبے گی (مفہوم از صحیح البخاری، کتاب الشرکۃ)۔
آج ہماری سوسائٹی میں، صرف ہندوستان کو نہیں کہتا، ہمارا یہ موجودہ بیسویں صدی کا سماج ایسی ہی کشتی بن گیا ہے کہ اس میں اپر کلاس والے بھی ہیں، اور لوور کلاس والے بھی ہیں، اپر کلاس والوں کی پیشانی پر بل آتے ہیں، اور یہ بات بات پر اپنا امتیاز ثابت کرتے ہیں، اور احساس برتری میں مبتلا ہیں، نیچے والے کہتے ہیں (نیچے اوپر کا فرق یوں سمجھیے کہ جس کو ضرورت پڑتی ہے اس کو آپ لور کلاس سمجھ لیجیے، اور جسے ضرورت نہیں پڑتی اسے اپر کلاس) کہ ہمیں کام سے کام ہے، ہم کچھ نہیں دیکھتے ہمارا کام تو نکلنا چاہیے، کرپشن ہے، ذخیرہ اندوزی ہے، بلیک مارکیٹنگ ہے، بے ایمانی ہے، کام چوری ہے، مزدور کام نہیں کرتا، مزدوری زیادہ لینا چاہتا ہے، اور جو مالک ہے مل اور کارخانے کا، وہ چاہتا ہے کہ یہ کام تو کرے پورا سولہ آنے، اور اگر کوئی ایسا قانون ہو کہ ایک آنہ ہم دے سکیں تو ایک ہی آنہ دیں، نتیجہ یہ ہے کہ ہر ایک کام نکالنا چاہتا ہے، سب لوگ اِن ڈائرکٹ (Indirect) طریقے پر سوراخ کر کے پانی بھر رہے ہیں، پوچھنا پاچھنا کچھ نہیں، اپنا کام ہے، اللہ نے ہم کو ہاتھ دیے ہیں، پاؤں دیے ہیں، سمجھ دی ہے، جو کچھ ہماری سمجھ میں آئے گا کریں گے، اب سماج میں جو لوگ سمجھ دار ہیں، دانش ور ہیں، اسکالر ہیں، محب وطن اور ملک کو چاہنے والے ہیں، اگر انہوں نے کہا: ہماری بلا سے یہ جانیں ان کا کام جانے، ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں، یہ چاہیں مریں، جئیں، تو نتیجہ کیا ہوگا؟
کشتی میں پانی بھرے گا، کشتی ڈوبے گی، اور بھائی جب کشتی ڈوبے گی تو امتیاز نہیں کرے گی، آگ جب کسی گاؤں میں لگتی ہے تو وہ امتیاز نہیں کرتی کہ یہ مسلمان کا گھر ہے، یہ ہندو کا گھر ہے، یہ شریف آدمی کا گھر ہے، یہ خاں صاحب کا گھر، یہ شیخ صاحب کا گھر، یہ پنڈت جی کا گھر، یہ فلاں کا گھر، کچھ نہیں، آگ تو اندھی بہری ہوتی ہے، جب لگتی ہے تو سب جلا کر خاک سیاہ کر دیتی ہے، سیلاب آتا ہے تو وہ امیر غریب، اونچے نیچے میں کوئی فرق نہیں کرتا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *