سیدہ امامہ بنت حمزہ ؓ

عمّ رسول سید الشہدا سیدنا حمزہؓ بن عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں جو سلمیٰ بنت عمیس کے بطن سے پیدا ہوئیں۔ سیدنا حمزہؓ کی شہادت (3ھ) کے وقت وہ بہت کم سن تھیں۔
صحیح بخاری میں ان کے متعلق یہ واقعہ مذکورہ ہے کہ ذیقعدہ 7 ہجری میں حضورؐ عمرۃ القضا کے لیے مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ صلحنامہ حدیبیہ کی شرط کے مطابق تین دن کے قیام کے بعد آپؐ مکہ سے چلنے لگے تو امامہؓ بنت حمزہؓ یاعم یاعم (اے چچا! اے چچا!) کہتی ہوئی حضور کی طرف دوڑیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت وہ یا اخی یا اخی یعنی بھائی بھائی کہہ رہی تھیں۔ فی الحقیقت حضورؐ حمزہؓ کے رضاعی اور خالہ زاد بھائی بھی تھے اور ان کے بھتیجے بھی تھے۔ اس لحاظ سے آپؐ امامہؓ کے چچا بھی ہوتے تھے اور بھائی بھی، سیدنا علیؓ نے ان کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے جاکر سیدہ فاطمۃ الزہراؓ کے سپرد کر دیا کہ یہ تمہاری بنت عم ہے۔ سیدنا علیؓ کے بھائی جعفرؓ بن ابی طالب اور حب النبی زیدؓ بن حارثہ نے امامہؓ کو اپنی آغوش تربیت میں لینے کے لیے حضور کی خدمت میں الگ الگ دعوے پیش کیے۔ علیؓ کہتے تھے کہ امامہؓ میرے چچا کی لڑکی ہے، اس لیے میں حق دار ہوں، سیدنا جعفرؓ یہ کہہ کر اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے کہ وہ میری بنت عم ہے، اور میری اہلیہ اسماء ؓ بنت عمیس کی حقیقی بھانجی ہے۔ زیدؓ بن حارثہ کہتے تھے کہ وہ میرے دینی بھائی (حمزہؓ) کی لڑکی ہے۔ سرور عالمؐ نے اس منازعت کا فیصلہ سیدنا جعفرؓ کے حق میں صادر فرمایا کیونکہ ان کی زوجہ اسماء بنت عمیس سیدہ امامہؓ کی حقیقی خالہ تھیں اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔
سیدہ امامہؓ سن بلوغت کو پہنچیں تو ان کا نکاح (سلمہؓ یا بروایت دیگر عمرؓ) بن ابی سلمہؓ سے ہوا جو ام المومنین سیدہ ام سلمہؓ کے فرزند اور سرور عالمؐ کے رہیب تھے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *