وہ اسرائیل کی خاطر مر گئے

امریکا میں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے غم غصے کی ایک لہر ہے جو سوشل میڈیا پہ چھائی ہوئی ہے۔ لوگ امریکی انتظامیہ پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ اپنے فوجیوں کو ایسی جنگ میں دھکیل رہے ہیں جس میں امریکی مفادات نہیں ہیں۔ اب 19 سالہ خاتون فوجی کی ہلاکت پر دکھ کے اظہار کے لیے امریکی بلاگرز اور صحافی ایک تنقیدی مہم کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ تنقید کی مہم غصے کو بھڑکا رہی ہے جو احتجاج میں تبدیل ہو گیا ہے۔ امریکا میں جنگ کے خلاف آوازیں بڑھتی جا رہی رہی ہیں خاص طور پہ ڈیجیٹل سوشل میڈیا، ڈیجیٹل منظر نامے اور سوشل میڈیا پر اس نے حلوہ حاصل کر لیا ہے جہاں معاشرے میں اثرو رسوخ رکھنے والے افراد، صحافی، مصنفین امریکا کی فوج کے خلاف اپنا شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک صحافی نے لکھا کہ خاتون فوجی اور دیگر افواج کو اسرائیل کے خاطر جنگ لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اسرائیل کے لیے مرنے نہیں گئی ہوں گی، ایک اور مصنف نے یہ رائے دی کہ دونوں فوجی بلکہ جو فوجی بھی ہیں وہ دراصل اسرائیل کے لیے مرے ہیں اور بلاوجہ فوجیوں کو ایک ایسی جنگ میں جھونکا جا رہا ہے جو امریکا کی نہیں اور نہ ہی یہ امریکا کی کوئی خدمت ہے۔

مختلف تنظیمیں امریکی انتظامیہ پر شدید الزام عائد کر رہی ہیں دعویٰ کر رہی ہیں کہ فوجیوں کے ہلاکت دراصل ایران کے ساتھ ٹرمپ کی غیر قانونی جنگ کا نتیجہ ہے اور ساتھ ہی وہ یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ محکمہ دفاع جانی نقصان کے حجم کو چھپا رہا ہے۔ میں نے دہشت گردی کے خلاف قومی مرکز کے سابق صدر جو کینٹ نے اس جنگ کے خاتمے اور امریکی افواج کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لیے بہترین خراج تحسین ہوگا۔ مختلف مشہور پوڈ کاسٹ کے میزبان بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران میں کوئی ایسا اسٹرٹیجک ہدف موجود ہی نہیں ہے جو امریکی فوجیوں کی جانوں کا نزرانہ پیش کرنے کا جواز فراہم کر سکے۔

ایران کے ساتھ فوجی تنازع میں اب تک مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد محدود ہے کہا جا رہا ہے کہ یہ تعداد 17 ہے لیکن ان ہلاکتوں کے اثرات جو امریکا میں نظر آ رہے ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اب یہ دیکھیں کہ کانگریس میں پوچھا جا رہا ہے کی مالی نقصانات کتنے ہیں؟ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا نے اب تک کتنے ارب ڈالر خرچ کیے؟ یہ سوال تھا جو امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے اس وقت پوچھا گیا جب وہ سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اس کے جواب میں وزیر جنگ نے کہا کہ امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے اور کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے جس میں سے 67 ارب ڈالر مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے اپریل میں کانگریس سے آئندہ مالی سال کے لیے پینٹاگون کے لیے 5 ارب ڈالر کے درخواست کی تھی جس سے جدید دور میں امریکی دفاعی اخراجات ریکارڈ سطح پر پہنچ جائیں گے۔ مزید وزیر جنگ نے کہا کہ اگر یہ فنڈ فرام نہ کیے گئے تو ہمیں ایسے شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا جو فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی آلات اور گولا بارود کی فوری فراہمی اور اہم فوجی کارروائیوں کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دے گا۔ کمیٹی کے سب سے سینئر ڈیموکریٹک رکن نے فنڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست زیادہ منطقی دکھائی نہیں دیتی۔ عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے اصلی اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں سماعت کے دوران نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک سینیٹر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے بمباری کے لیے لامحدود رقم مانگ رہی ہے جبکہ امریکی عوام اپنے خاندانوں کے لیے خوراک تک خریدنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جنگ میں کامیابی کا صدر پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں تو پھر اب مزید دسیوں ارب ڈالر کیوں درکار ہیں۔ سماعت کے اختتام پر شدید تنازع پیدا ہوا جب ڈیموکریٹک سینیٹر اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا سینیٹرز نے وزیر جنگ کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک لامتناہی جنگ شروع کر چکی ہے۔ ڈیموکریٹس کے جانب سے ٹرمپ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ جنگ ان کی اپنی مرضی کی جنگ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس دلدل سے نکلنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکی اخبارات یہ بتا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے امریکی میزائلوں کے ذخائر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی عہدے دار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ امریکا ایک وسیع جنگ کی تیاری کر رہا ہے لیکن موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ طویل مدت تک جنگ محفوظ طریقے سے جاری رکھنا مشکل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکا کن ممالک کو جنگ کا ایندھن بنانے کا منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *