گوادر،سیف سٹی منصوبہ ، مسائل کے حل کیلیے اہم اجلاس
گوادر ( نمائندہ جسارت ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور جدید شہری نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت سیف سٹی منصوبے سے متعلق پیش رفت، درپیش مسائل اور ان کے فوری حل کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ایس ایس پی) عطاء الرحمٰن خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ڈاکٹر عبدالشکور، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی بابا داد اللہ، ایس ڈی پی او گوادر چاکر بلوچ، جی ڈی اے کے انجینئر شاہد بلوچ، نائب تحصیلدار حاجی جاوید، پٹواری یاسین بلوچ، جمال بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران و اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اجلاس میں سیف سٹی منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تعمیراتی سرگرمیوں، چیک پوسٹوں کی تعمیر، کیمروں کی تنصیب، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور دیگر تکنیکی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ منصوبے کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ گوادر کی سکیورٹی، امن و امان اور جدید شہری نگرانی کے نظام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے کی تکمیل کی مقررہ مدت 30 جون تھی، تاہم تاخیر تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل کو فوری طور پر حل کریں تاکہ منصوبہ بلا تاخیر مکمل کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت بلوچستان سیف سٹی منصوبے کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور اس کے معیار، رفتار اور تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور سیف سٹی منصوبہ اسی مقصد کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اجلاس میں جی ڈی اے ماسٹر پلان کے تحت 76 فٹ چوڑی مجوزہ سڑک اور سیف سٹی منصوبے کی بعض تنصیبات کے درمیان پیدا ہونے والے تکنیکی مسئلے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جی ڈی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ سڑک ماسٹر پلان 2019 کا حصہ ہے، جبکہ سیف سٹی حکام نے بتایا کہ منصوبے کے ابتدائی سروے، سائٹ کے معائنے اور اراضی کی الاٹمنٹ کے مراحل میں تمام متعلقہ ادارے شریک تھے اور اس دوران مذکورہ رکاوٹ کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ سیف سٹی حکام نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو بروقت تحریری طور پر بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی نے اجلاس کو بتایا کہ اب تک منصوبے کے تقریباً 36 ملین روپے مالیت کے ترقیاتی کام مکمل کیے جا چکے ہیں۔