غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے‘ سینیٹ کمیٹی
اسلام آباد (نمائندہ جسارت/مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کے اہم اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی سطح پر غیر ضروری اور متوازی وزارتوں و محکموں کو ختم کر کے قومی خزانے کو سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی خطیر رقم بچائی جا سکتی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ یہ اہم اجلاس سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت ہوا، جس میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات کی منتقلی، وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاق کے دائرہ کار کو محدود رکھنے سے متعلق تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد بلیدی سمیت کمیٹی کے دیگر ارکان اور متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ دورانِ اجلاس سینیٹر جان محمد بلیدی اور دیگر سینیٹرز نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے اور آئی ایم ایف (IMF) پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 18ویں ترمیم کے تحت جن شعبوں کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے، وفاق میں ان کے متوازی دفاتر اور ڈپلیکیٹ محکمے قائم رکھنا آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی اور قومی وسائل کا ضیاع ہے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (CCI) اور این ایف سی (NFC) جیسے آئینی اداروں کو مکمل فعال بنایا جائے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر ضمیر حسین نے صوبوں کے مالی و آئینی حقوق کی عدم فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ سندھ سے روزانہ اربوں روپے کا تیل نکلتا ہے جبکہ خیبر پختونخوا بھی 42 فیصد تیل پیدا کر رہا ہے، لیکن ان صوبوں کو ان کا آئینی حصہ اور مراعات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو کہ سنگین بے قاعدگی اور بری حکمرانی ہے۔ کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ آئین کے آرٹیکل 172(3) اور آرٹیکل 38(جی) کے مطابق صوبوں کو ان کی معدنیات اور وسائل کا جائز حصہ دینے سے متعلق شفاف اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ وفاقی حکومت فوری طور پر زائد اخراجات والے اداروں کو بند کرے اور قومی خزانے پر بوجھ بننے والی غیر فعال سرکاری کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کر کے رائٹ سائزنگ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔