اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورئہ شام‘ اعلیٰ قیادت سے ملاقات
دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریس 2009 ء کے بعد پہلی بار شام کے پہلے سرکاری دورے پرپہنچ گئے جہاں دمشق میں وہ اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ شام میں سیاسی تبدیلیوں اور نئی حکومت کے قیام کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے گوتیریس اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران اقوامِ متحدہ کے سربراہ صدر احمد الشرع، اعلیٰ حکومتی حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے جن میں شام کی سیاسی صورتحال، انسانی بحران، تعمیرِ نو اور اقوامِ متحدہ کے تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق گوتیریس اپنے دورے کے دوران اس بات پر زور دیں گے کہ شام کو برسوں کی خانہ جنگی کے بعد امن، استحکام اور جامع سیاسی عمل کی جانب بڑھنے کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ وہ جولان کی پہاڑیوں میں تعینات اقوامِ متحدہ کے امن مشن کا بھی دورہ کریں گے۔ یہ دورہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سے قبل کسی موجودہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے 2009 ء کے بعد شام کا سرکاری دورہ نہیں کیا۔