ملک میں بارشوں اور سیلاب سے اموات کی تعداد 107 سے متجاوز‘ مزید بارشوں کی پیش گوئی
کراچی /اسلام آباد /لاہور /پشاور (اسٹاف رپورٹر /نمائندہ جسارت /مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں بارش اور سیلاب سے اموات کی تعداد 107 سے تجاوز کرگئی۔ بارش کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے شدید تباہی مچاہی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے ہونے والے حادثات میں اب تک107 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران مختلف حادثات میں 344 افراد زخمی ہوگئے۔این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب میں10، سندھ میں 2، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ ان حادثات میں 25 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں پنجاب کے 20، خیبر پختونخوا کے 3 اور سندھ کے 2 افراد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 26 جون سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 107 جبکہ زخمیوں کی تعداد 344 ہو چکی ہے۔ اسی عرصے میں 447 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 269 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مون سون بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹے کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔ تیز آندھی، آسمانی بجلی اور موسلادھار بارش سے کمزور تعمیرات کو نقصان پہنچنے کا انتباہ بھی کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر،گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کشمیرکے بعض علاقوں میں موسلادھاربارش ہوگی۔ اسلام آباد اور گردونواح میں موسم جزوی ابر آلود ، تیز ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ بالائی اوروسطی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، بلوچستان میں چند مقامات پربارش کا امکان جبکہ جنوب مشرقی سندھ، کشمیر اور شمال مشرقی و وسطی پنجاب میں کہیں کہیں موسلادھاربارش ہو سکتی ہے۔مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی، پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا انتباہ جاری کردیا۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق کالا باغ میں 3 لاکھ 34 ہزار اور چشمہ میں پانی کی آمد 3 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، تونسہ بیراج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 13 ہزار کیو سک ہے، دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی آرہی ہے اور سیلابی صورتحال نچلے درجے پر آگئی ہے، چناب میں مرالہ خانکی قادرآباد اور تریموں کے مقام پر نچلے دجے کا سیلاب ہے۔ فیروزوالا کے علاقہ پٹھان کالونی کے قریب نالہ بھیڑ میں طغیانی سے نالے کا بند ٹوٹ گیا۔ پٹھان کالونی سمیت مختلف آبادیوں میں پانی داخل ہوگیا۔ نقل مکانی کرتے ہوئے 3 بچے پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہوگئے۔ رحیم یارخان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے نجی بند جمہ واہ میں شگاف پڑگیا، شگاف پڑنے سے سیکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگیا۔ پنجاب بھر میں جاری طوفانی بارش نے تباہی مچا دی اور لوگوں کے معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ۔ چھتیں گرنے اور برساتی پانی میں ڈوبنے سے خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں ممکنہ مون سون بارش اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیان چند ایسرانی نے محکمہ بحالی کے زیر انتظام تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ گیان چند ایسرانی کا کہنا ہے کہ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی،ریسکیو 1122 اور موبائل ہیلتھ یونٹس کے افسران اور عملے کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے، صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ گیانچند ایسرانی نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈی ایم اے سندھ کی جانب سے ڈی واٹرنگ پمپس سے لیس 50 خصوصی ریسپانس گاڑیاں فیلڈ میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ ان میں کراچی ڈویژن کے لیے 10، حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز کے لیے 25 جبکہ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز کے لیے 15 گاڑیاں مختص کی گئی ہیں۔