روس جنگ میں 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو شامل کرنے کی تیار کررہا ہے‘ یوکرینی صدر
کیف/نیویارک (ویب ڈیسک) یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس اپنی جنگی حکمت عملی کو مضبوط بنانے اور مشرقی محاذ پر ہلاکتوں کے ازالے کے لیے مزید 30 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کو یوکرین جنگ میں شامل کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یوکرینی صدر کے مطابق ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان بڑھتا ہوا ملٹری الائنس نہ صرف یوکرین بلکہ یورپی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور مغربی استخباراتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا پہلے ہی روس کو خطیر مقدار میں توپ خانے کے گولے، بم اور بیلسٹک میزائل فراہم کر چکا ہے جبکہ اب باقاعدہ فوجیوں کو محاذِ جنگ پر بھیجنے کی شمولیت میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ یوکرینی صدر نے یورپی یونین، امریکا اور نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس اور شمالی کوریا پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کریں اور یوکرین کو جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی یقینی بنائیں۔ تجزئیہ کاروں کے مطابق پیانگ یانگ کی جانب سے روس کو اتنی بڑی تعداد میں افرادی قوت کی فراہمی کا مقصد جنگی تجربہ حاصل کرنا اور اس کے بدلے روس سے جدید ترین خلائی و نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنا ہے، جس سے نہ صرف ایشیا بلکہ پوٹاگون اور مغربی اتحادیوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔