ٹنڈوآدم، منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار نوجوان کے اہل خانہ کا احتجاج

ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)ٹنڈوجام پولیس کے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے نوجوان کے اہل خانہ کی حیدرآباد میرپور خاص ہائی وے کو بلاک کردیا دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہائی وے کو کھولنے کے لیے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں مسافر پریشان۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام پولیس نے منشیات فر روشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے گوٹھ حیدرشاہ ابڑی سے ایک نوجوان محمد خاصخیلی کو گرفتار کرلیا نوجوان کی گرفتار کے بعد گوٹھ کے رہائشی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ٹنڈوجام پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حیدرآباد میرپور خاص ہائی وے کو کسانہ موری پر بلاک کر دیا اور ہائی وے پر ٹائر جلا دیے جس کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد سے آنے اور جانے والی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی اور مسافروں کو گرمی کی وجہ سے شدید مشکلات سے گزرنا پڑا۔ ٹنڈوجام پولیس نے جب مظاہرین سے ہائی وے کھولنے کی کوشش کی تو پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو گئیں مشتعل مظاہرین نے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر کے پولیس اہلکاروں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا اس دوران پولیس نے گرفتار نوجوان محمد خاصخیلی کو اپنی تحویل میںلے کر ٹنڈوجام منتقل کردیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں منشیات فروش کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ماہانہ بھتا وصول کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اصل منشیات فروشوں کو چھوڑ کر غریب کیبن چلانے والوں کو گرفتار کر کے صرف خانہ پری کی جا رہی ہے ۔ٹنڈوجام کے ڈی ایس پی سید جندل شاہ لکھیاری نے مظاہرین سے مذکرات کرکے ان کے ساتھ انصاف کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد حیدرآباد میرپورخاص ہائی وے کھول دیا گیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *