کراچی سمیت ملک بھر کیلیے بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان
اسلام آباد / کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی سمیت ملک بھر کے لیے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ کے لیے مزید مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ بجلی میں ہر ماہ ایک روپے 34 پیسے تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو مکمل جانچ پڑتال کے بعد جاری کیا جائے گا۔ذرائع و دیگر موصولہ تفصیلات کے مطابق ڈسکوز کی جانب سے ابتدائی طور پر 23 ارب روپے سے زائد کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کو بعد میں ترمیم کر کے 33 ارب 77 کروڑ 80 لاکھ (تقریباً 34 ارب) روپے کر دیا گیا۔ اس رقم کی منظوری سے ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین پر مجموعی طور پر 34 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔نیپرا میں دائر درخواست کے مطابق بجلی کے ریٹ میں اس اضافے کی بنیادی وجہ بند اور کم استعمال ہونے والے پاور پلانٹس کو ادا کیے جانے والے ‘کیپیسٹی چارجز’ (Capacity Charges) ہیں، جن کا حجم تقریباً 46 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد بنتا ہے۔ سماعت کے دوران بجلی کمپنیوں کے حکام نے بتایا کہ صارفین کی بڑی تعداد میں ‘سولرائزیشن’ (سولر سسٹم) پر منتقل ہونے کی وجہ سے سرکاری گرڈ سے بجلی کی کھپت میں 5 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ڈسکوز کے مالی حجم پر اثر پڑا ہے۔دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس سمیت تجارتی و صنعتی تنظیموں اور صنعت کاروں کے نمائندوں نے نیپرا سماعت کے دوران اس مجوزہ اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ تاجر برادری نے موقف اپنایا کہ کیپیسٹی چارجز اور پاور پلانٹس کے غیر فعال ہونے کا خمیازہ عام صارفین اور صنعتوں پر نہیں ڈالنا چاہیے کیونکہ اضافی بوجھ سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ صنعتی نمائندوں نے اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیٹا کی مکمل چھان بین کرے اور اس اضافے کو فی الوقت مؤخر کیا جائے۔