ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی‘ نجی شعبے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرینگے‘ ہارون اختر
اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت معیشت کے استحکام، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے غیر ضروری ریگولیشنز ختم کیے جا رہے ہیں اور ریگولیٹری اصلاحات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے، انہوں نے اعلان کیا کہ ستمبر میں نئی صنعتی پالیسی متعارف کرائی جائے گی جبکہ نئی ٹیرف پالیسی کے تحت صنعتوں کو خام مال اور مشینری کم قیمت پر دستیاب ہوگی، بجلی کے نرخوں میں کمی کی ہے اور صنعتی شعبے کو مزید ریلیف دے ر ہے ہیں،الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی کا اجرا ہو چکا ہے جبکہ نئی آٹو پالیسی آئندہ 2 سے 3 ہفتے میں متعارف کرائی جائے گی، جس میں کمپنیوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی،موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور نئی پالیسی کے تحت مزید پرزے تیار کیے جائیں گے۔ زرعی مشینری کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے بھی پالیسی لائی جا رہی ہے جبکہ وزیراعظم صنعتی اور زرعی پالیسیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، اسی لیے بجٹ میں ودہولڈنگ ٹیکس کا بڑا مسئلہ ختم کر دیا گیا، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی حد ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین روپے کر دی گئی ہے اور طویل مدتی فنانسنگ اسکیم بھی متعارف کرا دی گئی ہے، برآمدات میں اضافے پر مزید مراعات دی جائیں گی جبکہ 50 کروڑ روپے سے کم آمدنی والے کاروباروں کے لیے سپر ٹیکس اور ایکسپورٹ سیکٹر پر عائد ڈبل ٹیکسیشن بھی ختم کر دی گئی ہے، چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ گزشتہ 1 سال میں 600 سے زائد مفاہمتی معاہدے اور سرمایہ کاری کے اعلانات ہوئے ہیں۔