نوجوان عاطف راجپوت کے قاتل دو سال بعد بھی گرفتار نا ہوسکے
حیدرآباد ( اسٹاف رپورٹر )دو سال قبل 14 اگست جشن أزادی منانے کے لئیے گھر سے نکلنے والے مقتول نوجوان عاطف راجپوت کے قاتل کو پولیس تاحال گرفتار نہ کرسکی اہل خانہ نے نامزد ملزم کی گرفتاری کے لئیے انتظامیہ کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیدیا اللہ والا چوک ہیرأباد پر دھرنا دیکر مین شاہراہ بند کرنے کی دھمکی ، مقتول کی بیوہ والدہ زہرہ راجپوت اور اہل خانہ نے حیدراباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ان کا نوجوان 20 سالہ بیٹا دو سال قبل 14 اگست 2024 کی رات ساڑھے 11 بجے گھر سے یہ کہہ کر نکلا کہ وہ دوستوں کے ساتھ جشن أزادی منانے جارہا ہے اپنے دوست شاہزیب چنہ کے ساتھ لبرٹی چوک پہنچا تو راستہ دینے پر تلخ کلامی ہوء جس پرنامزد ملزم امجد پالاری جو اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار تھا پسٹل نکال کر عاطف پر فائر کھول دئیے جسے شدید زخمی حالت میں سول ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کردی پوسٹ مارٹم کے بعد نعیش ورثاء کے حوالے کردی جبکہ اس واقعہ میں شاہزیب چنہ بھی فائرنگ سے زخمی ہوا واقعہ کے ایف أئی أر مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی جس میں مرکزی ملزم امجد پالاری کو نامزد کیا گیا سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانتیں رد ہونے کے باوجود پولیس قاتل کو گرفتار نہیں کررہی جو شہر میں دندناتا پھیر رہا ہے اور اہل خانہ پر کیس واپس لینے کے لئیے ناجائز دباؤ ڈال اور خطرناک نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہا ہے انہوں نے کہاکہ پولیس قاتل کی گرفتاری میں مسلسل عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے اور مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کررہی۔